.

غزہ: حق مزاحمت رد کرنے پر''انروا'' کی کتب رد

انروا کا احترام ہے، ہماری تاریخ کا احترام کیا جائے: ترجمان حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں حماس کی حمایت یافتہ حکومتی اتھارٹی نے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کیلیے کام کرنے والے ادارے کی ایسی کتب کی تقسیم اور پڑھائی روک دی ہے جس میں فلسطینی اقدار و ثقافت اور فلسطینیوں کے حق مزاحمت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے فراہم کردہ مذکورہ کتب میں جدوجہد اور مزاحمت کیلیے صرف پرامن ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

حماس کے زیر نگرانی وزارت تعلیم کے ترجمان معتصم المناوی کا کہنا ہے کہ ''حکومت یقین رکھتی ہے کہ مذکورہ تعلیمی نصاب غزہ کی آبادی کے نظریات، اور فلسفہ حیات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ ''

نیز ''ساتویں جماعت سے نویں جماعت کیلیے فراہم کردہ کتب فلسطینیوں کی مشکلات اور محرومی کا احاطہ کرتی ہیں اور نہ ہی فلسطینی عوام کی آزادی کیلیے اسرائیل کے خلاف جدوجہد کا حق تسلیم کرتی ہیں۔''

واضح رہے حماس جس پر سینکڑوں اسرائیلیوں کو فدائی حملوں میں ہلاک کرنے کا الزام ہے، مسلح جدوجہد کو آزادی کیلیے کلیدی اہمیت دیتی ہے۔ جبکہ اسرائیل نے بھی اس کا طویل عرصے سے محاصرہ کر رکھا ہے۔

غزہ کی حکمران اتھارٹی نے اقوام متحدہ کی طرف سے فراہم کردہ کتابوں پر انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے اس عالمی ڈیکلریشن میں مداخلت کے حوالے سے بھی اعتراض کیا ہے جو 1948 میں اقوام متحدہ کیطرف سے منظور کیا گیا تھا۔ ''

غزہ حکومت کے مطابق ڈیکلیریشن کے بعض حصے اسلامی قانون، حتی کہ مختلف عقیدے کے لوگوں کے شادی اور ایک مذہب کی تبدیلی کے حق کے بھی خلاف ہیں۔

ترجمان نے بتایا ہے غزہ حکام نے اقوام متحدہ کے ادارے'' انروا '' کے ذمہ داروں سے ملاقات کی ہے اور نہیں پیش کش کی ہے کہ نصاب کیلیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے۔ دوسری جانب انروا کے مقامی ترجمان عدنان ابو حسنہ نے اس امر کی تصدیق کی ہے کتب کے غزہ میں پڑھانے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

''انروا'' کے زیر اہتمام پورے علاقے میں مجموعی طور پر 245 سکول کام کر رہے ہیں جن میں دو لاکھ بتیس ہزار بچے زیر تعلیم ہیں۔ یہ ادارہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تعلیمی شعبے میں اس علاقے کے لوگوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔

'' انروا'' کے ایک ترجمان کرس گنیس کا کہنا ہے کہ '' غزہ میں اپنے تعلیمی پروگرام میں تبدیلی کا ارادہ نہیں ہے، تاہم حماس سے مزید بات چیت ہو گی۔ حماس کا کہنا ہے کہ ہم '' عالمی ادارے '' انروا کا احترام کرتے ہیں لیکن'' انروا '' کو بھی چاہیے کہ ہماری تاریخ اور روایات کا احترام کرے۔