.

"احتجاجی دھرنوں نے"داعش" کو عراق میں داخلے کا موقع دیا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ القاعدہ سے وابستہ تنظیم دولتِ اسلامیہ عراق وشام [داعش] صوبہ الانبار میں قبائل کے ایک سال تک جاری رہنے والے احتجاجی دھرنوں کے ذریعے عراق میں داخل ہوئی۔ اگر قبائل احتجاجی دھرنوں کے لیے کیمپ نہ لگاتے تو "داعش" کو اپنے پنجے گاڑھنے کا موقع نہ ملتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نوری المالکی نے ان خیالات کا اظہار صوبہ الانبار کے سرکردہ قبائلی جرگےمیں شرکت کے دوران کیا۔ اس موقع پرعراقی وزیر دفاع سمیت کئی دوسرے حکومتی عہدیدار بھی موجود تھے۔ پچھلے ایک سال سے جاری احتجاجی دھرنوں کے بعد وزیراعظم نے براہ راست خود پہلی مرتبہ قبائلی عمائدین سے ملاقات کی۔ اس سے قبل وہ قبائل کا دھرنا طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا رہے ہیں۔

قبائلی عمائدین سے ملاقات کے دوران وزیراعظم نوری المالکی کا کہنا تھا کہ انہوں نے قبائل کے پیش کردہ امن فارمولے کے قریبا تمام نکات سے اتفاق کیا ہے۔ صوبہ الانبار میں فوجی آپریشن کے دوران ہونے والے نقصان کے ازالے کے لیے مقامی آبادی کو ایک ارب ڈالر کی رقم فراہم کی جائے گی۔

اس کے علاوہ قبائلی نوجوانوں کو پولیس میں بھرتی اور ان کے دیگر نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔ قبائل کی جانب سے اپنے بعض زیر حراست کارکنوں اور رہ نماؤں کی رہائی کا بھی مطالبہ پیش کیا گیا تاہم نوری المالکی نے اس پر فوری عمل درآمد کے حوالے سے معذرت کی اور کہا ہے کہ ایگزیکٹو اتھارٹی ان کے ماتحت نہیں ہے تاہم وہ یہ معاملہ پارلیمنٹ اور عدالت میں اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کا کوئی وجود نہیں تھا۔ صوبہ الانبار میں حکومت کے خلاف مقامی قبائل کے احتجاجی مظاہروں نے داعش کو عراق میں داخل ہونے اور کارروائیاں کرنے کا راستہ فراہم کیا۔