.

سیاسی مخالفین پر حملے، 13 اخوانی کارکنوں کو دو سال قید

ضمانت پر رہائی پانے والے کارکن اشتہاری قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے کالعدم تنظیم اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے 13 سیاسی کارکنوں کو دو سال قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔ ملزمان پر 2013ء میں قاہرہ میں جماعت کے ہیڈ کواٹرز کے باہر پولیس کے ساتھ تصادم اور پرتشدد احتجاجی مظاہرے کے دوران سیاسی مخالفین پرحملوں کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ احتجاجی مظاہرے میں اخوان کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپوں میں کم سے کم 130 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

قاہرہ میں عدالتی حکام کے مطابق سزا پانے والوں میں اخوان المسلمون کے نائب مُرشد عام خیرت الشاطر کے سات ذاتی محافظ بھی شامل ہیں۔ خیال رہے کہ صدر ڈاکٹر محمدمرسی کی فوج کےہاتھوں برطرفی کے بعد خیرت الشاطر کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے خلاف جماعت کے سیکڑوں کارکنوں نے قاہرہ میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران اخوان مخالف عناصر اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کی مد بھڑ ہو گئی۔ دونوں گروپوں میں ہاتھا پائی کے نتیجے میں ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت کے حکم پرتمام ملزمان کو فوری طورپر جیل میں ڈالا جا رہا ہے، ان کی جانب سے سزاء کے خلاف اپیلوں کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ سزا پانے والوں میں کچھ افراد ضمانت رہا بھی کیے جا چکے ہیں لیکن عدالت کے نئے فیصلے کے بعد ان کی حیثیت اشتہاریوں کی ہے۔ وہ جب تک خود کو قانون کے حوالے نہیں کرتے ان کی ضمانتیں منسوخ رہیں گی۔

مصر کے سابق پراسیکیوٹر جنرل طلعت عبداللہ نے قاہرہ میں احتجاجی جلوسوں کے دوران ایک دوسرے پر حملہ کرنے والے چھ اسلام پسندوں اور چھ لبرل عناصر کا کیس ایک فوجداری عدالت کو بھجوا دیا تھا، تاہم اس دوران بعض ملزمان اپنی ضمانتیں کرانے میں بھی کامیاب ہوگئے تھے۔