.

عراق:مقتدیٰ الصدر نے سیاست سے کنارہ کشی کر لی

کوئی سیاسی اتحاد میری یا خاندان کی نمائندگی نہیں کرتا: بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں اہل تشیع کی طاقتور سیاسی ومذہبی شخصیت مقتدیٰ الصدر نے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ کوئی بھی سیاسی اتحاد ان کی یا ان کے خاندان کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔

مقتدیٰ الصدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''انھوں نے سیاست کو خیرباد کہہ دیا ہے اور اب کسی کو بھی اندرون یا بیرون ملک میں صدریوں کا ترجمان بننے کا حق حاصل نہیں ہے''۔

شعلہ بیان مقتدیٰ الصدر عراق کے مشہور شیعہ عالم مرحوم آیت اللہ محمد صادق الصدر کے چوتھے بیٹے ہیں اور انھیں الصدر تحریک کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ''میں سیاست میں عدم مداخلت کا اعلان کررہا ہوں اور آج کے بعد کوئی اتحاد پارلیمان یا اس سے باہر ہمارا نمائندہ نہیں ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے خاندان کی عزت وشہرت کو بچانے کے لیے سیاست کو خیرباد کہا ہے۔انھوں نے ملک میں جاری کرپشن کو سیاست سے کنارہ کشی کا واحد سبب قراردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کرپشن ان کے دفاتر کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی اور داغدار کرسکتی ہے۔

یادرہے کہ اس نوجوان شیعہ عالم دین نے عراق پر 2003ء میں امریکا کی چڑھائی کے بعد عالمگیر شہرت پائی تھی اور انھوں نے امریکی فوج کے حملے کی شدید مخالفت کی تھی۔تب انھوں نے امریکی فوج کی مزاحمت کے لیے مہدی آرمی کے نام سے شیعہ ملیشیا تشکیل دی تھی لیکن بعد میں اس ملیشیا کو تحلیل کردیا گیا تھا۔وہ عراق پر امریکی اور اتحادی فوجوں کے قبضے کے دوران اچانک روپوش ہوگئے تھے اور ان کے بارے میں پتا چلا تھا کہ وہ ایران کے شہر قُم میں مذہبی تعلیم پارہے تھے اور وہاں سے قریباً چار سال کے بعد عراق لوٹے تھے۔

ان کی صدر تحریک کے ہیڈکوارٹرز بغداد کے معاشی طور پر پسماندہ علاقے صدر سٹی میں قائم ہیں اور اس کی وقت ان کی اس اجماعت عراق کی کونسل برائے نمائندگان (قومی اسمبلی) میں چالیس ارکان ہیں۔کونسل کے کل ارکان کی تعداد تین سو پچیس ہے۔

انھوں نے ایسے وقت میں سیاست کو چھوڑنے کا اعلان کیا ہے جب مظاہرین بغداد کی شاہراہوں پر ارکان پارلیمان کی مراعات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور وہ ارکان پارلیمان کی پنشن سے متعلق قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔عراقی شہری ملکی تیل کی دولت سے سیاست دانوں کی تجوریاں بھرنے کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں جبکہ غریب طبقے کو اس آمدن کے فوائد و ثمرات سے محروم رکھا جارہا ہے۔