.

شامی مسلح افراد کی سرحد پار اردنی فوجیوں پر فائرنگ

اردنی فوجیوں کی جوابی فائرنگ سے سات مسلح افراد زخمی ،تین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرحدی علاقے سے دس مسلح افراد نے دوسری جانب گشت پر مامور اردنی فوجیوں پر فائرنگ کی ہے۔

اردنی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجیوں نے مسلح افراد پر جوابی فائرنگ کی ہے جس سے ان میں سے سات افراد زخمی ہوگئے اور تین کو گرفتار کر لیا گیاہے۔

شام کے سرحدی علاقے سے اردن کی جانب فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔اردنی فوج کے ترجمان نے کہا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ دوردراز سرحدی علاقے میں پیش آیا ہے اور اس کو شام کی جانب سے اردن میں داخل ہونے والے شامی مہاجرین استعمال نہیں کرتے ہیں۔

درایں اثناء شام میں جاری خانہ جنگی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پڑوسی ملک لبنان کے سرحدی علاقے میں فوج نے بارود سے بھری ایک کار پکڑی ہے۔

لبنان کی سرکاری خبررساں ایجنسی این این اے کی رپورٹ کے مطابق مشتبہ کار شام کے شورش زدہ علاقے قلمون کی جانب سے لبنانی علاقے میں آئی تھی اور فوجیوں نے شک گزرنے پر اس کو ایک چیک پوائنٹ پر روکا تو اس میں سے دوسو کلو گرام بارود برآمد ہوا ہے۔اس کو موبائل فونز کے ذریعے اڑایا جانا تھا۔

ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے مشرقی لبنان میں شعیبی ہام شاہراہ پر اس کار کی جانب فائرنگ کی تھی جس سے اس میں سوار افراد اتر کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔لبنانی فوج نے ایک بیان میں بارود سے لدی کار برآمد ہونے کی تصدیق کی ہے مگر اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

لبنانی فوج نے بدھ کو دوکاروں میں نصب بموں کو ناکارہ بنایا تھا۔ان میں سے ایک کار دارالحکومت بیروت اور دوسری لبنان کے مشرقی علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔فوج کے ایک بیان کے مطابق یہ دونوں کاریں شام کے قلمون پہاڑی سلسلے میں واقع قصبے یبرود کی جانب سے آئی تھیں۔اس علاقے پر شامی باغیوں کا قبضہ ہے اور انھوں نے اپنے مضبوط ٹھکانے قائم کررکھے ہیں۔

واضح رہے کہ لبنان نے سرکاری طور پر شام میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے غیرجانبدارانہ موقف اپنا رکھا ہے لیکن لبنانی آبادی شامی خانہ جنگی کے دونوں فریقوں کی حمایت یا مخالفت کی بنا پر بٹی ہوئی ہے۔لبنان کے اہل تشیع اوران کی طاقتور ملیشیا حزب اللہ اپنے ہم مسلک صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں جبکہ اہل سنت شامی باغیوں کے حامی ہیں۔دونوں فریق اپنے اپنے حامی گروہوں کی اخلاقی ،مالی اور اسلحی امداد کررہے ہیں۔ان کے درمیان لبنانی شہروں میں آئے دن جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔