.

حماس:فلسطین میں عالمی فوج تعینات کرنے کی تجویز مسترد

مجوزہ ریاست میں امن دستوں سے اسرائیلی فورسزایسا سلوک کیا جائے گا:ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس نے مستقبل میں قائم ہونے والی مجوزہ فلسطینی ریاست میں عالمی امن دستے تعینات کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے۔

حماس کے ترجمان سامی ابوزہری نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں ان کی جماعت کسی بین الاقوامی فورس کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرے گی جو وہ قابض اسرائیلی فورسز کے ساتھ کرتی چلی آرہی ہے۔

واضح رہے کہ حماس اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امریکا کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات کا حصہ نہیں ہے اور وہ ان کو مسترد کرتی چلی آرہی ہے۔اب اس کے اس تازہ بیان سے عیاں ہے کہ وہ مزعومہ امن کوششوں کے لیے مسائل کھڑے کرسکتی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان جاری مذاکرات کے نتیجے میں حتمی معاہدے سے قبل سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

اسرائیل سکیورٹی وجوہات کی بنا پر حتمی معاہدے کے بعد بھی مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی پر اصرار کررہا ہے۔ امریکا نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے کے لیے اپریل کی ڈیڈلائن مقرر کی تھی لیکن تب تک ان کے درمیان مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازعے کو طے کرنے کے لیے تمام اختلافی امور پر اتفاق رائے مشکل نظر آرہا ہے۔

اسرائیل مغربی کنارے کی اردن کے ساتھ واقع وادی اردن میں تعینات اپنے فوجیوں کو برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء پر اصرار کررہے ہیں تاکہ علاقے میں بین الاقوامی فورسز کو تعینات کیا جاسکے۔

صدر محمود عباس نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ'' ہمیں اسرائیلی انخلاء کے بعد یا اس کے دوران کسی تیسرے فریق کی موجودگی سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا تاکہ ہمیں اور اسرائیلیوں کو یہ یقین دہانی کرائی جاسکے کہ انخلاء کا عمل مکمل کیا جائے گا''۔انھوں نے اسرائیلی فورسز کی جگہ نیٹو فوج کی تعیناتی کی تجویز پیش کی تھی۔

فلسطینی اسرائیل کے ساتھ حتمی امن معاہدے کی صورت میں غزہ کی پٹی ،غرب اردن اور مشرقی القدس پر مشتمل علاقوں پر اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں ان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔تب یہ مصر اور اردن کی عمل داری میں آتے تھے۔اسرائیل نے حماس کے مزاحمت کاروں کے حملوں کے بعد 2005ء میں غزہ کی پٹی کو تو خالی کردیا تھا مگر غرب اردن کے شہروں اور القدس پر اپنا قبضہ اور یہودی آبادکاروں کو بسانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کے انخلاء کے بعد وہاں حماس نے اپنی حکومت قائم کر لی تھی اور دوسال بعد اس نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے غزب اردن اور غزہ دونوں علاقوں میں اپنی حکومت بنائی تھی لیکن صدر محمود عباس نے حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنئیہ کی حکومت ختم کردی تھی جس کے بعد سے غزہ اور مغربی کنارے میں دو الگ الگ متوازی حکومتیں قائم ہیں۔

فلسطینی قومی شناختی کارڈز

درایں اثناء مغربی کنارے میں فلسطینی حکومت نے قومی شناختی کارڈز سے مذہبی وابستگی کی تفصیل حذف کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔اس اقدام کا مقصد مذہبی امتیازات کا خاتمہ ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیرداخلہ حسن علاوی نے کہا ہے کہ صدر محمود عباس نے دوہفتے قبل کارڈوں سے مذہبی حیثیت کو ختم کرنے کے لیے حکم جاری کیا تھا۔ان کا یہ اقدام فلسطینی قانون کے مطابق ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ تمام شہری خواہ وہ مسلمان ،عیسائی ،کالے یا گورے ہیں،سب برابر ہیں۔

عباس حکومت کے اس اقدام کا فلسطین کی عیسائی اقلیت نے خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے انھیں ملازمتوں کے یکساں مواقع حاصل ہوں گے۔تاہم دوسری جانب غزہ میں حماس کی حکومت نے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔