.

خامنہ ای جوہری تنازعے پر مذاکرات سے مایوس ہو گئے

چھ بڑی طاقتوں کیساتھ مذاکرات سے ایک روز پہلے ایرانی سپریم لیڈر کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی طاقتوں اور ادراوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بارے میں مایوسی کا اظہار کرتے ہو ئے کہا ہے کہ یہ آگے بڑھنے کے نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرت کے مخالف نہیں ہیں۔

خامنہ ای نے کہا '' سابقہ ایرانی حکومت کے کچھ ذمہ دار اور موجودہ حکومت کے بعض ذمہ دار سمجھتے ہیں کہ مذاکرات سے جوہری ایشو طے ہو جائےگا۔ ''

تاہم انہوں نے کہا ''میں اپنی بات دہراتا ہوں کہ میں ان مذاکرات کے بارے میں خوش فہمی کا شکار نہیں ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ان مذاکرات کا کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا، یہ اس کے باوجود کہہ رہا ہوں کہ میں مذاکرات کے حق میں ہوں۔''

واضح رہے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان کل منگل کے روز سے ویانا میں دوبارہ مذاکرات شروع ہونے والے ہیں، تاکہ 24 نومبر کو طے پانے والے ابتدائی جوہری معاہدے پر عمل در آمد کا جائزہ لیتے ہوئے مستقل معاہدے کی طرف بڑھا جاسکے۔

بعض مغربی ممالک اور اسرائیل یہ موقف رکھتے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ البتہ ایران ایسے الزامات کی تردید کرتا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر نے یہ بھی کہا ہے کہ '' ایرانی وزارت خارجہ نے جوہری پروگرام کے حوالے جو کام شروع کیا ہے وزارت خارجہ اسے جاری رکھے گی، ایران اس بارے میں اپنی کمٹمنٹس پوری کرے گا اور خلاف ورزی نہیں کرے گا۔''

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف اپنی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ویانا پہنچ چکے ہیں جہاں کل منگل سے مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔