.

شام کا مسیحی چار رکنی خاندان مصر میں قتل کر دیا

سکیورٹی حکام کے مطابق واقعہ فرقہ وارانہ نہیں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے چار رکنی ایک مسیحی خاندان کو مصر کے شہر سکندریہ میں چھرا گھونپ کر ہلاک کرنے کے بعد ان کا گھر نذرآتش کر دیا گیا ہے۔

سکندریہ کے سکیورٹی کے شعبے کے سربراہ امین اعزالدین کے مطابق نی شامی خاندان کے قتل کے بارے میں میڈیا کے سامنے تصدیق کی ہے۔ قتل ہونے والا خاندان مذہبی اعتبار سے مسیحی تھا تاہم سکیورٹی سے متعلق حکم نے قتل کی وجہ فرقہ وارانہ نہیں بتائی ہے۔

حکام کے مطابق چوہرے قتل کا یہ واقعہ ایک مجرمانہ واردات ہے، اس بارے میں ایک مشتبہ شخص پر بھی سکیورٹی حکام کی نظر ہے اور جلد اس سلسلے میں پیش رفت کا امکان ہے۔

مقتولین کے پوسٹ مارٹم کے بعد حکام نے پراسیکیوشن کے حکم دے دیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چار افراد پر مشتمل یہ شامی خاندان پڑوسیوں سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتا تھا۔

خاندان کے سربراہ یوسف نخل کی عمر 44 سال جبکہ اس کی اہلیہ عبیر کی عمر 35 برس بتائی گئی ہے۔ خاندان کے دوسرے ارکان میں چھ سالہ بیٹے مائیکل کے علاوہ سربراہ خانہ کی 43 سالہ ہمشیرہ بھی شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو ان کے بیڈ رومز میں قتل کیا گیا ہے۔