.

سابق لبنانی وزیر داخلہ وزارت چھوڑنے پر آبدیدہ ہو گئے

شہریوں کی مشکلات نے سابق وزیر کو رلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیر داخلہ مروان شربل وزارت کا قلم دان چھوڑنے سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں شہریوں کی مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے رو پڑے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مروان شربل لبنانی ٹیلی ویژن چینل "الجدید" کو انٹرویو دے رہے تھے۔ میزبان کے ساتھ گفتگو کے دوران اُنہیں شہریوں کی لائیو کالز بھی موصول ہو رہی تھیں۔ اس دوران جب شہریوں کی مشکلات کا تذکرہ چھڑا تو وزیر موصوف کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پروگرام کے دوران ایک شہری نے فون کرکے مروان شربل کی سیکیورٹی کے شعبے میں خدمات بالخصوص سیکیورٹی اہلکاروں کی ترقیوں پر ان کا شکریہ ادا کیا تو مروان شربل اس پر بھی آبدیدہ ہو گئے تھے۔ اس انٹرویو کے اگلے روز انہوں نے وزارت کا قلم دان نہاد منشوق کے حوالے کردیا تھا۔

سابق وزیر داخلہ اپنے بعض بیانات کی وجہ سے سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا بھی سامنا کرتے رہے ہیں بالخصوص تخریب کاروں کے بارے میں ان کا نرم رویہ اور معاف کرنے کی خو نے انہیں ایک متنازعہ شخصیت بھی بنائے رکھا تھا۔ ان کا ایک بیان خاص طور پر سوشل میڈیا کے ہتھے چڑھا اور اس پر طویل بحث ہوتی رہی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ کار چور چوری شدہ کاروں کو دھماکے کرنے والوں کے ہاتھ فروخت کرتے ہوئے پولیس کو مطلع کیوں نہیں کرتے"۔

مروان شربل صدر جمہوریہ میشل سلیمان کے مقرب سمجھے جاتے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم نجیب میقاتی کی حکومت میں وزیر داخلہ رہے۔ تاہم طویل کشمکش اور سیاسی دباؤ کے بعد میقاتی کی حکومت کو مستعفی ہونا پڑا۔