.

شام: کلسٹر بموں کی طرز کے راکٹوں کے استعمال کا انکشاف

انکشاف ہیومن رائٹس واچ نے استعمال شدہ راکٹوں کی تصاویر سے کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے وسطی شہر ہاما میں انسانی حقوق سے متعلق کارکنوں نے تین سالہ جنگی کے دوران پہلی مرتبہ کلسٹر بموں کی طرح کے بارود کے حامل راکٹوں کے استعمال کی نشاندہی کی ہے۔ ان راکٹوں کے حوالے سے غالب گمان یہ ہے کہ انہیں شامی رجیم نے ہی استعمال کیا ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق ادارے نے یہ بیان ان استعمال شدہ راکٹوں کی تصاویر لینے کے بعد جاری کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان چلائے گئے راکٹوں کی یہ تصاویر شامی رجیم کے حالیہ حملوں کے بعد لی گئی ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ان تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت نے اس شہر پر حملے کرنے کیلیے 300 ایم ایم کی ایم 55 کے نامی بیٹری نصب کی ہے۔ ان ہتھیاروں میں میں استعمال ہونے والے بارود کے بارے میں اے ایف پی کہنا ہے کہ یہ روسی ساختہ ہے۔

خطرناک راکٹوں کی شناخت 12 اور 13 فروری کے روز سامنے آئی ہے۔ ان راکٹ حملوں کی وجہ سے کم از کم دو شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ اور دس زخمی ہو گئے تھے۔

ہیومن رائٹس واچ اسلحے کو ڈیل کرنے والے شعبے کے ڈائریکٹر سٹیو گوز کا کہنا ہے کہ ''یہ بڑی ہولناک بات ہے کہ شامی رجیم ابھی تک شریوں کے خلاف ممنوعہ کلسٹر بارود استعمال کر رہی ہے۔''

ڈائیریکٹر کا کہنا ہے کہ شام کے خلاف کلسٹرز کا استعمال ان کی آنے والی نسلوں کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی ہے۔

واضح رہے کلسٹر بموں کے استعمال پر دنیا کے 113 ممالک میں پابندی ہے۔ ان بموں کے استعمال سے نشانہ بننے والے شہری عرصہ بعد موت کقا شکار بن جاتے ہیں۔