.

بیروت:کویتی،ایرانی مشنوں کے نزدیک دھماکے،6 افراد ہلاک

100 زخمی، القاعدہ سے وابستہ تنظیم نے بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے میں واقع ایران کے ثقافتی مرکز اور کویتی سفارت خانے کے نزدیک بدھ کو دو بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک اور کم سے کم ایک سو زخمی ہوگئے ہیں۔

لبنانی حکام کے مطابق جنوبی بیروت میں واقع کویتی سفارت خانے اور ایران کی ثقافتی چانسلری کے نزدیک دھماکے کے لیے ایک سو ساٹھ کلو گرام وزنی بارود استعمال کیا گیا ہے۔ایرانی ثقافتی مرکز کے سامنے حال ہی میں ایسے حملوں سے بچنے کے لیے کنکریٹ کی دیوار بھی تعمیر کی گئی ہے۔

بیروت میں دوسرا بم دھماکا ایک اسلامی خیراتی ادارے کے زیراہتمام یتیم خانے کے نزدیک ہواہے۔دھماکے سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے اور اس کی کھڑکیوں کو آگ لگ گئی۔اس بم دھماکے میں مرنے والوں اور زخمیوں میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔تاہم فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ وہ یتیم خانے سے تعلق رکھتے تھے۔

لبنانی وزیراعظم تمام سلام نے ان بم دھماکوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ''یہ دہشت گردی کی قوتوں کا ایک پیغام ہیں اور وہ یہ کہ وہ لبنان میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں،ہمیں ان کا یہ پیغام مل گیا ہے اور ہم اس کا یک جہتی اور امن کے لیے عزم کے ذریعے جواب دیں گے''۔

القاعدہ سے وابستہ اہل سنت جنگجوؤں کے گروپ عبداللہ عزام بریگیڈز نے ان دونوں بم حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔اس تنظیم نے ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''عبداللہ عزام بریگیڈز اور حسین بن علی بریگیڈز سے تعلق رکھنے والے بھائیوں نے ایرانی ثقافتی مرکز پر حملے کیے ہیں۔یہ دُہرا فدائی مشن تھا''۔

بیروت کے جنوبی علاقے میں جولائی 2013ء کے بعد سے سات بم دھماکے ہوچکے ہیں۔3 فروری کو اسی علاقے میں بم دھماکے میں چار افراد ہلاک اور کم سے کم ساٹھ زخمی ہوگئے تھے۔

العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق لبنانی سکیورٹی فورسز نے حزب اللہ کے مضبوط گڑھ اس علاقے میں حالیہ دنوں میں کاروں میں نصب متعدد بم ناکارہ بنائے ہیں لیکن ان کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا تاکہ مکینوں میں کوئی خوف وہراس نہ پھیلے۔

واضح رہے کہ اگست میں حزب اللہ کے مضبوط مرکز کے باہر ایک کار بم دھماکے میں پچیس افراد ہلاک اور تین سو پینتیس زخمی ہوگئے تھے۔گذشتہ ماہ لبنانی دارالحکومت میں بم دھماکے میں سابق وزیرخزانہ محمد شطح سمیت چھے افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

نومبر میں ایران کے سفارت خانے کے باہر دو کار بم دھماکوں میں ایرانی کلچرل اتاشی سمیت پچیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔عبداللہ عزام بریگیڈزنے ہی ان دونوں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی اور یہ دھمکی دی تھی کہ اگر حزب اللہ نے صدر بشارالاسد کی حمایت میں اپنے جنگجو شام میں بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا تو لبنان میں مزید دھماکے کیے جائیں گے۔حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اتوار کو ایک تقریر میں ان بم دھماکوں کے باوجود شامی صدر بشارالاسد کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔