.

شام:جیش الحر کے سربراہ نے برطرفی مسترد کردی

اسدی فوج کے خلاف برسرجنگ باغیوں کا جنرل سلیم ادریس کے زیرکمان لڑنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے باغی جنگجوؤں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے سربراہ جنرل سلیم ادریس نے حزب اختلاف کے لیڈروں کی جانب سے اپنی برطرفی مسترد کردی ہے جبکہ علاقائی یونٹ کمانڈروں نے ان کے زیرکمان ہی شامی فوج سے لڑائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے بدھ کو جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں جیش الحر کی سپریم ملٹری کونسل( ایس ایم سی) کی مکمل تشکیل نو کے لیے کہا گیا ہے''۔اس ویڈیو میں ایس ایم سی کے متعدد سرکردہ فیلڈ کمانڈرز بھی نظر آرہے ہیں۔

انھوں نے حزب اختلاف کی شیڈو کابینہ کے وزیردفاع اسعد مصطفیٰ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جنھوں نے اتوار کو ان کی جگہ بریگیڈئیر جنرل عبدالالہ البشیر کو جیش الحر کا کماندار اعلیٰ بنانے کی حمایت کی تھی۔انھوں نے ان کے اس فیصلے کو شخصی قراردیا۔

شامی حزب اختلاف کی قومی کونسل کے سربراہ احمد جربا اور اسعد مصطفیٰ کی مبینہ حمایت سے جیش الحر کی اعلیٰ فوجی کونسل نے اتوار کو سلیم ادریس کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا اور اس کا جواز یہ پیش کیا تھا کہ ''شامی انقلاب کو میدان جنگ میں مشکلات کا سامنا ہے''۔

لیکن شام کے پانچ محاذوں پر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج سے برسرجنگ باغی جنگجوؤں نے جنرل سلیم ادریس کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے اور شامی قومی اتحاد کی قیادت پر باغی جنگجوؤں میں پھوٹ ڈالنے کا الزام عاید کیا ہے۔

ان یوںٹ کمانڈروں نے منگل کی شام آن لائن ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے جنرل سلیم ادریس کے زیرکمان ہی لڑنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔وسطی شام کے لیے جیش الحر کے ایک کمانڈر فتح حسون نے اس ویڈیو میں کہا کہ ''ہم جنرل اسلیم ادریس کی برطرفی کو کالعدم اور غیر قانونی سمجھتے ہیں اور ان کے حامی انھی کے زیرکمان لڑائی جاری رکھیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''جو گروپ ملکی سرزمین پر موجود ہی نہیں،اس کو اہم فیصلے کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور یہ گروپ برسرزمین برسرپیکار فورسز کے نقطہ نظر کی بھی عکاسی نہیں کرتے ہیں''۔

شام کے مشرقی محاذ پر جیش الحر کی کمان کرنے والے کمانڈر محمد العبود نے فون کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان سے بھی اس معاملے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔

شام میں باغیوں سے بہتر روابط کے حامل ایک جنگجو نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ جنرل سلیم ادریس کو ہٹانے کا فیصلہ اعلیٰ فوجی کونسل کے ایک خفیہ اجلاس میں کیا گیا تھا لیکن اس کونسل کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی ہے کیونکہ بہت سے باغی جنگجو اس کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس کونسل نے بریگیڈئیر جنرل سلیم ادریس کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا ایک یہ جواز پیش کیا تھا کہ وہ برسرزمین حالیہ مہینوں کے دوران شامی فوج کی پیش قدمی کو روکنے میں ناکام رہے ہیں اور جیش الحر کے جنگجوؤں کو بہت سے قصبوں اور دیہات سے پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جیش الحر کے کماندار اعلیٰ پر یہ بھی تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ شامی فوج کے مقابلے کے لیے غیرملکی پشتی بانوں سے مزید اسلحے کے حصول میں ناکام رہے ہیں۔اس جنگجو گروپ کے حوالے سے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران جیش الحر کو تین کروڑ ڈالرز کی امداد بیرون ملک سے ملی تھی۔ایک مغربی ملک نے بھی اس کو امداد دی تھی لیکن اب اس کی جانب یہ امداد بند ہوچکی ہے۔