.

مصری سکیورٹی حکام کے زیر حراست خاتون کے ہاں بچی کی پیدائش

پولیس نے زیر حراست خاتون کے شوہر کو بھی گرفتار کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پولیس نے پچھلے ہفتے دوران حراست بچے کو جنم دینے والی لڑکی کے شوہر کو گرفتار کر لیا ہے۔ شوہر کی گرفتاری اس وقت ایک پولیس چھاپے کے دوران عمل میں آئی، جب وہ اپنے گھر میں اپنے بعض عزیز و اقارب کے ساتھ موجود تھا۔

اشرف انتار کے مطابق اس نے پچھلے ہفتے پیدا ہونے والی اپنی بیٹی حریہ کی پیدائش پر اپنے گھر میں ایک تقریب منعقد کر رکھی تھی کہ اسے پولیس نے گرفتار کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق اشرف انتار کی 18 سالہ بیوی ذہب حامدی آٹھ ماہ سے حاملہ تھی اور اپنے معمول کے چیک اپ کیلیے 14 جنوری کو ہسپتال جارہی تھی۔ اسی دوران سکیورٹی فورسز نے اسے راستے سے اس شبہے میں گرفتار کر لیا کہ وہ السیسی کی حمایت یافتہ حکومت کیخلاف احتجاج میں حصہ لینے کیلیے گھر سے باہر تھی۔

واضح رہے ذہب حامدی کے ہسپتال جاتے ہوئے اتفاق سے پولیس نے السیسی مخالف اور نئے دستور کیخلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کی گرفتاریوں کیلیے کریک ڈاون شروع کر رکھا تھا۔ تاہم مصری سکیورٹی فورسز نے اس حاملہ خاتون کو بھی گرفتار کر لیا۔
گرفتاری کے بعد ذہب حامدی المیریہ کے حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔ تب سے اب تک اس کی حراست کی 15 مرتبہ توسیع کی جا چکی ہے۔ اسی دوران گزشتہ ہفتے زیر حراست حاملہ کو زچگی کیلیے ہسپتال جانا پڑا تو بھی اسے رہا نہ کیا گیا بلکہ ہتھکڑیاں لگا کر لیبر روم منتقل کر دیا گیا۔

جہاں اس نے ایک بچی کو جنم دے دیا۔ حتی کہ بچی کی پیدائش کے بعد بھی اسے ہتھکڑیاں لگا کر رکھا گیا۔ ہسپتال سے اب کسی بھی وقت اسے واپس حراستی مرکز میں بھیجا جا سکتا ہے۔ جہاں اس کی نومولود بچی کو بھی قید میں رہنا ہوگا۔

خاتون پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے غیر قانونی احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ دوسری جانب اس اشرف انتار کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ اپنے موکل کی گرفتاری کی وجوہات جاننے کیلیے پولیس سے رجوع کر رہے ہیں۔

واضح رہے مصری سکیورٹی فورسز حکومت مخالف مظاہرین اور سیاسی کارکنوں کے خلاف مسلسل کریک داون جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کریک ڈاون کا اصل ٹارگیٹ پہلے منتخب صدر محمد مرسی کے حامی ہیں۔