.

سعودی عرب:شامی بچوں سے یوم یک جہتی منانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے آیندہ ہفتے شام میں جاری خانہ جنگی سے متاثر ہونے والے ہزاروں بچوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے قومی دن منانے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کی اطلاع کے مطابق ''شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے قومی سطح پر شامی بچوں کے ساتھ یوم یک جہتی منانے کی ہدایت کی ہے تاکہ ہزاروں شامی بچوں کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے''۔

ایس پی اے نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''یوم یک جہتی منانے کا مقصد نامساعد حالات میں رہنے والے ہزاروں شامی بچوں کی ضروریات کو پورا کرنا ہے اور ان کے رہنے سہنے کے طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی کاوشوں کا ہاتھ بٹانا ہے''۔

''شامی بھائیوں کی امداد کے لیے سعودی قومی مہم'' کے نگران شہزادہ نایف بن عبدالعزیز نے یوم یک جہتی کے لیے منگل 25 فروری تک تمام تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔اس سلسلہ میں شاہ فہد کلچرل سنٹر ریاض میں ایک تقریب منعقد کی جائے گی جس میں سرکاری عہدے دار اور عوامی نمائندے شرکت کریں گے۔

واضح رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کو تین سال ہونے کو ہیں۔اس دوران صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی اور تشدد کے دوسرے واقعات میں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔

خانہ جنگی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شامیوں کی بڑی تعداد اس وقت پڑوسی ملک لبنان میں پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہی ہے۔لبنان میں قریباً نولاکھ دس ہزار ،اردن میں پانچ لاکھ پچھہتر ہزار ،ترکی میں پانچ لاکھ باسٹھ ہزار ،عراق میں دو لاکھ سولہ ہزار اور مصر میں ایک لاکھ پینتالیس رجسٹرڈ شامی پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ان میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

عالمی امدادی ایجنسیوں کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ایک کروڑ پانچ لاکھ شامیوں کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔پانچ سال سے کم عمر کے دس لاکھ سے زیادہ بچے کم خوراکی کا شکار ہیں۔شام کی قریباً نصف آبادی کی پانی کے صاف پانی یا حفظان صحت تک کوئی رسائی نہیں ہے اور چھیاسی لاکھ کو صحت عامہ کی ناکافی سہولتوں کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے اداروں نے پیشین گوئی کی ہے کہ اگر شام میں حالات بہتر نہیں ہوتے اور خانہ جنگی جاری رہتی ہے تو 2014ء کے اختتام تک لبنان میں مقیم شامی مہاجرین کی تعداد بڑھ کر ساڑھے سولہ لاکھ ،اردن میں آٹھ لاکھ ،ترکی میں دس لاکھ ،عراق میں چار لاکھ اور مصر میں ڈھائی لاکھ ہوجائے گی۔