.

یہودیوں کے نسل پرستانہ حملوں سے فلسطینیوں کی گاڑیاں بھی غیر محفوظ

30 کاروں کے ٹائر پنکچر، نسل امتیاز پر مبنی نعروں کی چاکنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین میں قابض یہودی آباد کاروں کی روز مرہ غنڈہ گردی میں نہتے فلسطینی شہریوں کی کوئی بھی چیز محفوظ نہیں رہی ہے۔ شرپسند یہودی آباد کار گھروں کے باہر کھڑی فلسطینی شہریوں کی کاروں کو بھی معاف نہیں کرتے۔ ان کے ٹائر پنکچر کرنے کے ساتھ ساتھ گاڑیوں پر نسلی امتیاز پر مبنی عرب اور اسلام دشمن نعروں کی چاکنگ بھی اب روز کا معمول بن گیا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ گذشتہ روز مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کے گھروں کے باہر کھڑی 30 کاروں کے ٹائر پنکچر کر دیے گئے۔ معاملہ صرف ٹائرپنکچر کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ کاروں پر فلسطین، عرب اور اسلام دشمن نعرے بھی تحریر کر دیئے گئے۔

پولیس ترجمان میکی روزن فیلڈ کے مطابق یہ واقعہ بیت المقدس میں قائم "گیلو" یہودی کالونی کے قریب شرفات کالونی میں پیش آیا۔ ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے کاروں پر عرب دشمنی پر مبنی نعروں کی چاکنگ دیکھی ہے۔ کاروں کے علاوہ کالونی کے مکانات کی بیرونی دیواروں پر بھی "چور" اور "عربوں کے ساتھ بقائے باہمی نا منظور" کے عبرانی الفاظ میں نعرے تحریر کیے گئے۔

مبصرین کے خیال میں فلسطینی شہری یہودی توسیع پسندی کی سزا بھگت رہے ہیں کیونکہ یہودی شرپسندوں کی جانب سے فلسطینیوں کو اسی مخالفت کی بناء پر منظم انتقامی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہودی آباد کاروں کی جانب سے "قیمت چکانے" کی ایک اصطلاح بہ کثرت استعمال کی جاتی ہے۔ یہ صرف ایک اصطلاح ہی نہیں بلکہ ایک منظم مہم ہے جس کے تحت فلسطینیوں کی املاک کو تباہ اور ان کی جان ومال پر حملے کیے جاتے ہیں۔ ان حملوں میں فلسطینیوں کے زیتون کے باغات کی تباہی، فصلات پر حملے، مذہبی مقامات کی بے حرمتی اور شہریوں پر تشدد کی وارداتیں شامل ہیں۔