.

جنرل سلیم ادریس کی سبکدوشی سے "جیش الحر" میں پھوٹ پڑ گئی

17 بریگیڈز کمان داروں کی فوج سے علاحدہ ہونے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اپوزیشن کی مسلح افواج کی قیادت میں تبدیلی کے بعد "جیش الحر" میں گہرے اختلافات سامنے آئے ہیں۔ جیش الحر کے بعض اہم عسکری رہ نماؤں نے جنرل سلیم ادریس کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے ہٹائے جانے اور ان کی جگہ بریگیڈیئر عبدالالہ البیشر کو مقرر کرنے کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔

العربیہ کے برادر ہیڈ لائنز چینل 'الحدث' کی رپورٹ کے مطابق جیش الحرکے زیرانتظام متعدد بریگیڈز نے جنرل سلیم ادریس کی سبکدوشی کی کھل کرمخالفت کی ہے اور فوجی قیادت میں تبدیلی کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل سلیم ادریس کو ان کے عہدے سے ہٹانا غیر آئینی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنرل سلیم کی حمایت کرنے والے 17 بریگیڈز کے سربراہوں نے ایک مشترکہ قرارداد پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ اگر جنرل سلیم ادریس کو ان کے عہدے پر بحال نہ کیا گیا تو وہ جیش الحر سے الگ ہو جائیں گے۔ بریگیڈ کمانڈروں نے عہدے سے ہٹائے گئے تمام عسکری قائدین کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق شامی اپوزیشن کے لیے اب جنرل سلیم کو بحال کرنا بھی ایک مشکل فیصلہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ اپوزیشن کے قومی اتحاد کی جانب سے جنرل سلیم ادریس کو عہدے سے ہٹانے اور عبدالالہ بشیر کو جیش الحر کا نیا کماندار مقرر کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا تھا۔

شامی اپوزیشن کی نمائندہ فوجی قیادت میں اختلافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب سرکاری فوج ایک مرتبہ پھر طاقتور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر یہ اختلافات برقرار رہتے ہیں تو شام کی تحریک انقلاب پر اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نیز ایسے حالات میں عالمی امداد بھی بند ہو سکتی ہے۔

جیش الحر کا ڈھانچہ

خیال رہے کہ شامی اپوزیشن کی مسلح افواج کا باضابطہ قیام چھ دسمبر2012 ء کو انطالیہ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں عمل میں لایا گیا تھا۔ جیش الحر میں سرکاری فوج سے الگ ہونے والے 300 جنرنیلوں اور بریگیڈیئر کے عہدے کے افسران سمیت کئی ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا۔

جیش الحر کو مسلح تحریک منظم کرنے کے لیے جغرافیائی طور پر شمالی، مشرقی، وسطی، مغربی اور جنوبی پانچ محاذوں میں تقسیم کیا گیا۔ ہرمحاذ کے تحت گیارہ عسکری کونسلیں قائم کی گئی۔ ان عسکری کونسلوں کو ایک مشاوری کونسل کا درجہ دیا گیا، جس میں ہر گورنری سے چھ اور مجموعی طور پر 30 ارکان شامل کیے گئے۔ انہی علاقائی کونسلوں پر مشتمل ارکان سے کچھ نمائندے سپریم عسکری کونسل کے لیے چنے گئے۔ یہ سپریم عسکری کونسل مسلح افواج کے اعلیٰ عہدیداروں کی سبکدوشی اور تقرری کی ذمہ دار ہے۔