.

شامی اسلام پسندوں کیطرف سے خواتین کیلیے حجاب کا حکم

ہفتے کے روز تک کی مہلت شام کے مشرقی قصبے دیر الزور میں دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام پسند مزاحمت کاروں نے شام کے مشرقی علاقوں میں خواتین کو حجاب اوڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی خاتون نے حجاب نہ کیا تو اسے خمیازہ بھگتنا ہو گا۔

اسے اسلام پسندوں کی طرف سے لوگوں سے زبردستی اسلامی شعائر کی پابندی کرانے کی باضاطہ کوشش قرار دیا گیا ہے۔ ایک بیان جو دیر الزور میں اسلامی شریعت کونسل کی طرف سے جاری کیا گیا ہے، میں کہا گیا ہے کہ خواتین ہفتے کے روز تک حجاب کا اہتمام کریں۔

جاری کیے گئے بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ جو خواتین ہفتے کے روز کے بعد بھی پردہ نہیں کریں گی انہیں کیا سزا دی جائی گی۔

واضح رہے مسلح اسلام پسند گروہ بشارالاسد رجیم کے خلاف تین سالہ مزاحمت کے دوران مضبوطی سے سامنے آئے ہیں دوسری جانب بشارالاسد اپنے آپ کو ملک میں سیکولازم کا محافظ قرار دیتا ہے۔

اسلامی شریعت کونسل نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ '' ملک میں فتح پانے میں گناہ اور فسق و فجور کا کلچر سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دیرالزور کی لیگل کونسل نے قصبے میں نیکی کے حکم اور برائی سے روکنے کے عمل کی تعریف کی ہے۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کی مانیٹرنگ سے متعلق آبزرویٹری کے مطابق النصرہ فرنٹ اور داعش دونوں اسلام کے نفاذ کے حوالے سے سخت گیر پر مبنی موقف رکھتی ہیں۔ اس آبزر ویٹری نے ان اسلام پسند گروپوں پر الزام لگایا ہے کہ یہ خواتین کے بارے میں امتیازی پابندیوں کی حامی ہیں۔