.

ایران کی جانب سے بشارالاسد کی فوجی امداد میں اضافہ

پاسداران انقلاب کے کمانڈرسراغرسانی کے لیے شامی فوج کی معاونت کررہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری خانہ جنگی کو چوتھا سال شروع ہونے کو ہے اور صدر بشارالاسد کے اتحادی ملک ایران نے برسرزمین ان کی فوجی امداد میں اضافہ کردیا ہے۔انھیں انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کے لیے ایران کی ایلیٹ ٹیمیں کام کررہی ہیں اور شامی فوجیوں کی ایران میں تربیت کی جارہی ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران شامی حکومت کو باغیوں کی سرکوبی کے لیے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی مہیا کررہا ہے لیکن شامی فوج ایران کی افرادی قوت اور اسلحے کی امداد اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی معاونت کے باوجود باغیوں کے خلاف جاری لڑائی میں کوئی نمایاں پیش قدمی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔

ایران سنی عرب ریاستوں کے ساتھ فرقہ وارانہ ''پراکسی جنگ'' لڑنے کے لیے صدر بشار الاسد کی حمایت میں اربوں ڈالرز خرچ کر چکا ہے۔ماہرین کے نزدیک ایرانی فوجیوں کی شام میں جاری جنگ میں شرکت بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ شامی صدر جنیوا میں حال ہی میں ختم ہونے والے مذاکرات میں حزب اختلاف کو کوئی رعایتیں دینے پر آمادہ نہیں ہوئے ہیں۔

ایرانی اور شامی حزب اختلاف کے ذرائع اور سکیورٹی ماہرین کے مطابق تہران نے حال ہی میں سیکڑوں فوجی ماہرین کو شام میں بھِیجا ہے۔ان میں پاسداران انقلاب کی ایلیٹ القدس فورس کے سینیر کمانڈرز،اندرونی اور بیرونی خفیہ سروسز کے اہلکار شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق ایران کے ان فوجیوں کی شام میں موجودگی کا مقصد باغیوں کے خلاف میدان جنگ میں لڑائی نہیں ہے بلکہ شامی فوج کو تربیت دینا اور انٹیلی جنس معلومات کو اکٹھا کرنے کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ایک عہدے دار کا تو یہ کہنا ہے کہ ''ہم ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ ہم اپنے شامی بھائیوں اور ان کی منشا کا احترام کرتے ہیں،ایران شام میں اسلحہ یا مالی امداد کی فراہمی یا فوجیوں کو بھیجنے جیسے معاملے میں ملوث نہیں ہوا ہے''۔

لیکن ایران کے ایک سابق عہدے دار بہ قول ایرانی فورسز تو شام میں فعال ہیں۔القدس فورس شام میں انٹیلی جنس معلومات جمع کررہی ہے اور اس کو ایران اپنی ترجیح قراردیتا ہے،القدس فورس اور پاسداران انقلاب کے چند سو کمانڈرز شام میں موجود ہیں لیکن وہ براہ راست لڑائی میں شریک نہیں ہیں۔

پاسداران انقلاب کے حال ہی میں ریٹائرہونے والے ایک سینیر کمانڈر کا کہنا ہے کہ شام میں ایران کے عربی بولنے والے بعض کمانڈرز بھی موجود ہیں اور ان کی ہمیشہ ساٹھ سے ستر تک تعداد برقرار رہی ہے۔یہ لوگ بشارالاسد کی فوج کو مشاورت مہیا کررہے ہیں اور باغیوں کے خلاف لڑائی میں ان کو تربیت دے رہے ہیں۔

ایران کی نیم فوجی باسیج ملیشیا کے ہزاروں رضا کار اور عراق سے تعلق رکھنے شیعہ جنگجو بھی اس جنگ میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔تاہم ان اعدادوشمار کی شام سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔البتہ پاسداران انقلاب کے دو کمانڈروں کی شام میں ہلاکت کی تصدیق کی گئِی تھی۔

ایک امریکی عہدے دار نے ایران کی جانب سے بشارالاسد رجیم کی غیر متزلزل حمایت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایرانی اور شامی حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی اہلکار ترکی سے شامی علاقے میں داخل ہورہے ہیں کیونکہ ایرانیوں کو ترکی کے سرحدی علاقے میں جانے کے لیے کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔بعض ایرانی عراق کے سرحدی علاقے سے شام میں داخل ہوتے ہیں جبکہ سینیر کمانڈر براہ راست پروازوں کے ذریعے دمشق میں آکر اترتے ہیں۔

شامی حزب اختلاف کے ایک اور ذریعے کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران ایرانیوں نے شام کے ساحلی شہروں طرطوس اور اللاذقیہ میں بھی میدان جنگ میں اترنا شروع کردیا ہے۔ان کے پاس مقامی شناختی کارڈز ہیں،انھوں نے شامی فوج کی وردیاں پہن رکھی ہوتی ہیں اور وہ شامی فضائیہ کے ایلیٹ انٹیلی جنس یونٹ کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔

فوجی ہتھیاروں کے ایک ماہر نک جینزن جونز کا کہنا ہے کہ ایرانی ساختہ فلک اوّل اور فلک دوم راکٹ لانچرز ایران سے شام کو بھیجے گئے ہیں۔حزب اختلاف کے ذرائع کے مطابق اللاذقیہ کے ہوائی اڈے اور بندرگاہ کے علاوہ طرطوس کی بندرگاہ کو ایرانی ہتھیاروں کو شامی فوج تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔اس اسلحے میں مشین گنیں،توپخانے کے لیے گولہ وبارود اور ٹینک بھی شامل ہیں۔روس نے بھی شام کو ہلکے ہتھیار مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اس عمل میں کسی عالمی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہورہا ہے۔