.

دہشت گردوں کے قتل، گرفتاری پر عراق میں انعام مقرر

ہاون راکٹ حملوں میں 17 افراد ہلاک، 70 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے میں ناکامی پر حکومت نے القاعدہ اور اس کے حامی عناصر کے خلاف "مؤثر" کارروائی کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔ بغداد کی وزارت دفاع کے ایک حالیہ اعلان کے مطابق القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] سے وابستہ عناصر کو قتل یا گرفتار کرنے میں مدد فراہم کرنے والے شہری کو 17 ہزار ڈالر انعام دیا جائے گا۔

سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے ایک بیان میں وزارت دفاع نے کہا تھا کہ جو شخص داعش یا القاعدہ کے کسی غیر ملکی جنگجو کو قتل کرے گا اُسے 20 ملین دینار اور جو زندہ گرفتار کرکے حکام کے حوالے کرے گا اسے 30 ملین دینار انعام دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں عراق کے سُنی اکثریتی صوبہ فلوجہ اور اس سے متصل رمادی شہر میں "داعش " اور القاعدہ کے دیگر جنگجو گروپوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ صوبہ الانبار اور کئی دوسرے اضلاع میں اب بھی القاعدہ کے خلاف طاقت کے استعمال کے باوجود شدت پسندوں کو ختم نہیں کیا جا سکا ہے۔

ادھر پولیس ذرائع کے مطابق جنوبی بغداد میں المسیب کے مقام پر نامعلوم حملہ آوروں کے پھینکے گئے تین ہاون راکٹ گرنے سے 17 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تینوں راکٹ گنجان آباد علاقے میں گرے ہیں جس کے نتیجے میں زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔