.

اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور تشدد سے غزہ میں 16 شہری زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کی محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی گولہ باری کے مختلف واقعات میں کم سے کم سولہ افراد زخمی ہو گئے۔

غزہ وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف قدرہ نے میڈیا کو بتایا کہ صہیونی فوج نے مشرقی غزہ میں الشجاعیہ کے مقام پر مارٹر گولے فائر کئے جس کے نتیجے میں دس عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔

فلسطینی عہدیدار کا کہنا تھا کہ شمال مشرقی غزہ کی پٹی میں جبالیہ کے مقام پر اسرائیل کی حفاظتی باڑ ہٹانے کے ایک ریلی نکالی گئی۔ مشتعل مظاہرین نے حفاظتی باڑ کی جانب بڑھنے کی کوشش کی تو اسرائیلی فوجیوں نے انہیں لاٹھی چارج، آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیوں فائر کر کے روکنے کی کوشش کی۔ اس پر مظاہرین نے قابض فوج پر سنگ باری کی۔ جھڑپوں میں کم سے کم چودہ فلسطینی زخمی ہو گئے۔

ترجمان نے بتایا کہ زخمیوں میں ایک بارہ سالہ بچے کے سر میں گولی لگی ہے جسے شدید زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق زخمی بچے کی حالت خطرے میں ہے۔

ادھر مصر کی سرحد سے متصل رفح شہر میں یورپی اسپتال ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے غزہ وزارت داخلہ کے ماتحت ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے جسےعلاج کے لیے یورپی یونین کے تعاون سے چلنے والے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے سرحدی علاقے میں اپنے گھروں کے قریب کھیلتے بچوں پر بھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک بچہ بھی زخمی ہوا۔

وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کو غزہ کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

ایک عینی شاہد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ گذشتہ روز انتفاضہ یوتھ الائنس کے سیکڑوں نوجوانوں نے مشرقی غزہ میں نحال العوز کے مقام پر احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین نے غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے فوری خاتمے اور شہر کی تمام راہداریاں فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے ان پر بھی لاٹھی چارج کیا۔ جواب میں فلسطینی شہریوں نے بھی اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کیا۔