.

ایرانی عالم دین کا امریکا سے سفارتی تعلقات بحالی پر انتباہ

امریکا سے دوستی کے حامیوں کو مایوسی ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے قدامت پسند اور سخت گیرعالم دین علامہ آیت اللہ احمد جنتی نے امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے سنگین مضمرات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے واشنگٹن سے تعلقات قائم نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "امریکا سے دوستی کرنے والوں کی تمنائیں ادھوری رہیں گی اور وہ مایوس ہوں گے۔"

تہران میں خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ احمد جنتی کا کہنا تھا کہ "میں جانتا ہوں کہ کُچھ لوگوں نے امریکا کے ساتھ دوستی کے فروغ کے لیے ایک خفیہ نیٹ ورک بنا رکھا ہے۔ میں ایسے امریکی نواز حلقوں کو بتاتا ہوں کہ ہماری قوم امریکیوں کو کسی صورت میں قبول نہیں کرے گی۔ اس لیے جو لوگ امریکی گود میں بیٹھنا چاہتے وہ ایران اور امریکا میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔ جب تک ہماری قوم اور عظیم مرشد اعلیٰ امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا متفقہ فیصلہ نہیں کرتے تب تک کسی دوسرے گروپ کو کامیابی نہیں ملے گی"۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کے مطابق مُرشد اعلیٰ کے ہمخیال علامہ جنتی دستوری کونسل کی نگراں کمیٹی کے رُکن ہیں اور ملک میں امریکا کی مخالفت میں اپنی خاص شہرت رکھتے ہیں۔ نماز جمعہ میں ان کی تقریر پر بعض جذباتی نوجوانوں نے امریکا اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے بھی لگائے۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات سنہ 1980ء سے معطل ہیں۔ ایران میں شیعہ مسلک اسلامی انقلاب کے بعد 1980ء میں سیکڑوں شہریوں نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر ہلہ بول دیا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ہاں تعینات اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے۔

گذشتہ برس نومبر میں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران واشنگٹن کے دورے پر آئے ایرانی صدر حسن روحانی اور ان کے امریکی ہم منصب باراک اوباما کے درمیان پہلا براہ راست ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا، جس کے بعد دو طرفہ تعلقات کی بحالی کی امید کی جا رہی ہے۔