.

عراق: سلیمان بیک کا قبضہ عسکریت پسندوں سے واپس

اب ایک بھی عسکریت پسند قصبے میں موجود نہیں: سرکاری ذمہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی سرکاری افواج نے ملک کے شمالی قصبے سلیمان بیک کا کنٹرول ایک ہفتے کے بعد عسکریت پسندوں سے ہفتے کے روز واپس لے لیا ہے۔ اس سے پہلے قبضے کی اس لڑائی کے دوران قصبے کا کنٹرول بار بار فریقین کے ہاتھوں سے ایک دوسرے کو چھننے کا موقع ملتا رہا ہے۔

عراقی عسکریت پسندوں نے ابتدائی طور پر اس قصبے کا کنٹرول 13 فروری کو سرکاری افواج سے چھین لیا تھا۔ اس عرصے میں درجنوں سکیورٹی اہلکاروں اور عسکریت پسندوں کے علاوہ سویلین بھی لقمہ اجل بن گئے۔

تاہم ہفتے کے روز مقامی سرکاری ذمہ دار طالب البیاتی نے بتایا ہے کہ سرکاری افواج نے اب اس قصبے کا قبضہ مکمل طور پر عسکریت پسندوں سے واپس چھین لیا ہے۔ اب قصبے میں کوئی عسکریت پسند موجود نہیں ہے بلکہ صرف فوجی اور پولیس اہلکار قصبے کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔

فوج کے ایک ذمہ دار لیفٹیننٹ جنرل عبدالعامر الزیدی کے مطابق سرکار فورسز نے قصبے کا کنٹرول جمعرات کے روز ہی چھین لیا تھا۔ البتہ مقامی سرکاری ذمہ دار طالب البیاتی نے کہا اب یہ کنٹرول مکمل طور اپنے ہاتھ میں کر لیا ہے۔

سلیمان بیک میں قبضے کے لیے لڑائی کے واقعات عملا سنی اکثریتی صوبہ انبار کے شہر فلوجا رمادی میں سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات کے باعث عراق میں پیدا شدہ صورتحال 2008 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے۔