.

مرسی : حامیوں سے پرامن انقلاب کیلیے دباو بڑھانے کا مطالبہ

معزول صدر کے خلاف مقدمات، چھ پولیس اہلکار بری ہو چکے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول کیے گئے پہلے منتخب صدر محمد مرسی نے اپنے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ پر امن انقلاب کے اپنا دباو بڑھائیں، یہ بات انہوں نے جیل توڑنے کے الزام کے تحت ایک سو تیس دوسرے ملزمان کے ہمراہ مقدمے کی سماعت کے موقع پر کہی ہے۔

محمد مرسی جنہیں مصری عوام نے مصری تاریخ میں مصر کے پہلے صدر کے طور پر منتخب کیا تھا،ان دنوں جیل میں ہیں اور 2011 میں ایک جیل کے توڑنے کے الزام کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر جاسوسی اور سازش کرنے کا الزام بھی عاید کیا گیا ہے۔

مصر کے پہلے منتخب ہونے والے صدر پر ایک اور مقدمے میں یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے 2012 میں ایوان صدر کے باہر مظاہرہ کرنے والے مظاہرین کو قتل پر اکسایا تھا۔ اس مقدمے میں مرسی پر جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں انہیں عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے۔ تاہم محمد مرسی نے گزشتہ سال نومبر میں عدالت میں پہلی پیشی کے موقع پر عدالت کے سامنے خود کو اب بھی مصر کا آئینی صدر قرار دیا اور عدالتی اختیار کو چیلنج کیا تھا۔

مرسی کو فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے پچھلے سال جولائی میں برطرف کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ان کی جماعت اور اخوان المسلموں نہ صرف دہشت گرد قرار پا چکی ہے بلکہ اس کی قیادت مختلف مقدمات کا بھی سامنا کر رہی ہے۔

معزول صدر کیخلاف زیر سماعت مقدمہ اسی مقدمے کا حصہ ہے، جس کے تحت چھ پولیس اہلکاروں کو بری قرار دیا جا چکا ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے 2011 میں 83 مظاہرین کو سکندریہ میں ہلاک کر دیا تھا۔ ان بری ہونے والے میں سکندریہ پولیس کا سربراہ بھی شامل تھا۔

پراسکیوٹر نے الزام عاید کیا کہ پولیس کمانڈر نے پولیس کو ایسا ہلاکت خیز بارود دیا تھا جو ہلاکتوں کا باعث بنا تھا۔ پولیس کے وکیل نے اس بارے میں ذمہ داری پولیس حکام پر ڈالنے کو غلط قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک درجن سے زائد پولیس اہلکاروں پر مقدمہ بنایا گیا تاہم ان میں سے اکثر بری ہو چکے ہیں ۔ اس موقع پر ملزمان نے انصاف زندہ باد کے نعرے لگائے۔