.

مصری سیاسی جماعت کی پہلی خاتون سربراہ منتخب

قبطی عیسائی ہالہ شکراللہ دستور پارٹی کی سربراہ بنی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سیاسی جماعت کی سربراہی قبطی مسیحی خاتون کے نام ہونے سے مصری خواتین کیلیے سیاسی میدان میں نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔ ہالہ شکراللہ نامی سیاستدان خاتون نے مصر کے سابق عبوری نائب صدر محمد البرادعی کی جگہ پارٹی کی نئی چئیر پرسن منتخب منتخب ہوئی ہیں۔

مبصرین نے مصری سیاسی میدان میں ایک بڑا ''بریک تھرو'' قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہالہ شکراللہ کا بطور پارٹی سربراہ انتخاب صرف خواتین کیلیے ہی نہیں قبطی مسیحی کمیونٹی کے لیے بھی بڑا خوشگوار ہے۔ واضح رہے مصر میں قبطی عیسائی مجموعی آبادی کا دس فیصد ہیں۔

ہالہ شکراللہ پارٹی کی بانی ارکان میں شامل ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے مجموعی 189 ووٹوں میں سے 108 ووٹ حاصل کیے ہیں، پارٹی سربراہی کیلیے ہالہ شکراللہ کے مقابلے میں دو اور امیدوار تھے۔ ان کے مدمقابل امیدوار جمیلہ اسماعیل اور حسام عبدالغفار کو بالترتیب 57 اور 23 ووٹ ملے ہیں۔ جبکہ دو ووٹ ضائع ہو گئے۔

محمد البرادعی نے نئی پارٹی سربراہ کو منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ اس موقع پر پارٹی کے سابق سربراہ البرادعی نے اپنے خطاب میں نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ انہیں غلطیوں سے سیکھنا چاہیے۔

البرادعی نے پارٹی کے عہدے سے پچھلے سال اس وقت استعفی دے دیا تھا جب انہوں نے عبوری حکومت میں نائب صدر کا سنبھالا تھا تاہم اگلے ہی ماہ اخوان کے سینکڑوں کارکنوں کو ایک کریک ڈاون میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔