.

شامی فورسز نے حکومت مخالف معروف کارکن کو اغوا کر لیا

انٹیلی جنس ایجنٹ بائیں بازوں کے مسیحی لکھاری کو پکڑ کر ساتھ لے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے انٹیلی جنس ایجنٹوں نے بائیں بازو کے معروف لکھاری اور سابق سیاسی قیدی اکرم البنی کو دارالحکومت دمشق کے وسطی علاقے سے اغوا کر لیا ہے۔

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے بتایا ہے کہ اکرم البنی ہفتے کی شام شادی کی ایک تقریب میں شریک تھے اور انھیں وہاں سے واپسی پر صدر بشارالاسد کے کزن حافظ مخلوف کے زیر قیادت انٹیلی جنس ڈویژن کے ایجنٹ زبردستی پکڑ کر لے گئے ہیں۔وہ ماضی میں دوعشرے تک سیاسی قیدی کے طور پر جیلوں میں گزار چکے ہیں۔

ان کے بھائی اور انسانی حقوق کے علمبردار انورالبنی کا کہنا ہے کہ اکرم اسد خاندان کی جگہ جمہوری حکومت کے قیام کی حمایت کرتے رہے ہیں،اس پرحکومت ان سے نالاں ہے حالانکہ وہ پہلے ہی ان کی زندگی کے بیس قیمتی سال چھین چکی ہے اور جیلوں میں رہنے کی وجہ سے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوچکے ہیں۔

انھوں نے ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ انھوں نے 2011ء کے بعد بشارحکومت کی تمام تر چیرہ دستیوں کے باوجود دارالحکومت دمشق ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا حالانکہ گذشتہ تین سال کے دوران شامی فورسز نے ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے غائب کردیا ہے۔واضح رہے کہ مسیحی البنی خاندان اسد خاندان کی حکمرانی کا شدید مخالف رہا ہے۔

اکرم البنی بشارالاسد اور ان کے والد حافظ الاسد کے دورحکومت میں اپنی تحریروں اور حکومت مخالف سیاسی گروپوں سے تعلق کے الزام میں بیس سال جیلوں میں قید رہے ہیں۔وہ چاربھائی اور ان کی ایک بہن ہے اور یہ تمام افراد کل ستر سال سیاسی قیدی کے طور پر جیلوں میں گزار چکے ہیں۔

اس وقت بشارالاسد کی حکومت کی قید میں دوسرے معروف سیاسی کارکنان میں مسیحی خلیل معطوق اور مازن درویش شامل ہیں۔مازن صدر بشارالاسد کے علوی فرقے سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور انھیں 2012ء میں اسدی فورسز کے کریک ڈاؤن میں نشانہ بننے والے افراد کا ریکارڈ رکھنے کی پاداش میں گرفتار کرلیا تھا۔

شامی حزب اختلاف کی ایک اور زیرحراست معروف شخصیت اور صدر بشارالاسد کے خلاف پُرامن مظاہروں کی قیادت کرنے والے عبدالعزیز الخیر کے بارے میں آج تک کچھ پتا نہیں چل سکا ہے۔حکومت مخالف کارکنان کا کہنا ہے کہ انھیں دوسال قبل خفیہ پولیس نے گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد ان کے بارے میں کچھ پتا نہیں ہے کہ انھیں کہاں رکھا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مس نیوی پیلے ایک سے زیادہ مرتبہ اپنی رپورٹس میں یہ کہہ چکی ہیں کہ شامی صدر بشارالاسد سمیت حکومتی عہدے دار انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں،انسانیت مخالف جرائم اور جنگی جرائم میں ملوّث ہیں اور ان کے خلاف وافر ثبوت موجود ہیں۔