.

اطوار بھجت شہید وطن کی محبت پر قربان ہو گئی

پُرخطر محاذوں سے رپورٹ کرنے والی "العربیہ" کی شہید نامہ نگار کی کچھ یادیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسان جب اپنا محبوب کھو دے تو قصیدہ گوئی اور غزل خوانی شروع کر دیتا ہے اور جب وطن چھن جائے تو افسانے لکھنے بیٹھ جاتا ہے لیکن العربیہ ٹیلی ویژن کی شہید نامہ نگار اطوار بہجت السامرائی کو دونوں دکھوں نے ایک ساتھ آ گھیرا تھا۔ اس کے باوجود وہ میدان جنگ میں فولادی عزم کے ساتھ ڈٹی رہی اور آخر کار اپنے خون سے پیارے وطن کی مٹی کو سیراب کر گئی۔

بہجت کے والد عراقی سنی اور والدہ اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھتی تھی۔ یوں اس کی رگ و پے میں شیعہ، سنی خون ایک ساتھ دوڑ رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اطوار بہجت اپنے نام کی طرح خوبیوں کا ایک مرقع تھی، جس میں وطن سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

سنہ 2003ء میں جب امریکی سربراہی میں اتحادی افواج نے عراق پر چڑھائی کا آغاز کیا تو اطوار بہجت جیسے محب وطن نوجوانوں کے لیے یہ ایک نہایت المناک واقعہ تھا۔ یہیں سے بہجت نے وطن سے محبت میں شاعری اور افسانہ نگاری شروع کردی۔ کم عمری ہی میں بہجت کے دو شعری مجموعے اور ایک افسانہ شائع ہو گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اطوار بہجت کی المناک شہادت کا واقعہ 22 فروری 2006ء کو پیش آیا جب وہ سامراہ شہر میں واقع دو بزرگ ہستیوں کے مزارات پر ہونے والے بم دھماکوں کی کوریج کررہی تھی۔ اسے دہشت گردوں نے محض اس لیے نشانہ بنایا کہ وہ مزارات پر حملوں کو ملک دشمن عناصر کی کارستانی قرار دے رہی تھی۔

اطوار بہجت نے خود ہی "کرکوک" جا کر امام علی ھادی اور امام حسن عسکری کے مزارات پر حملوں کی براہ راست کوریج کی تجویز دی۔ 'العربیہ' کی ٹیم نے اطوار بہجت اور اس کی کیمرہ ٹیم سے رابطہ کر کے صورت حال کی رپورٹنگ کی اجازت کے ساتھ انہیں اپنی جانوں کی حفاظت کی تلقین بھی کی۔ بہجت 39 سالہ فوٹو گرافر خالد محمود الفلاحی اور براڈ کاسٹنگ انجینیئر عدنان خیراللہ کو ہمراہ لیے جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر پہنچی تو انہیں سیکیورٹی حکام نے آگے جانے سے روک دیا۔ بہجت چونکہ بم دھماکوں کے مقامات کی براہ راست کوریج نہیں کر پائی تاہم دستیاب خبر کا لائیو فونو دینے کی تیاری شروع کر دی۔

یہ اطوار بہجت کا آخری براہ راست فونو تھا، جس کے بعد عراق کے لیے بولنے والی زبان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی گئی۔ مزارات دھماکوں کی خبر دینے کے بعد بہجت اور اس کے ساتھی اپنی جگہ پر موجود تھے کہ لیکن ان کا دشمن بھی گھات لگائے بیٹھا تھا۔ دہشت گردوں نے اطوار بہجت اور اس کے دونوں ساتھیوں کو قریب سے گولیاں مارنے کے بعد انہیں ذبح کیا اور نہایت بے دردی سے ان کی نعشوں کا مثلہ کیا گیا۔ اس ہولناک کیفیت کو دیکھنے والے آج بھی اسے یاد کرتے ہوئے رو پڑتے ہیں۔

عراقی تجزیہ نگار اور صحافی جاسم العائف نے کہا کہ بہجت اوراس کے ساتھیوں کا بیہمانہ قتل اور پھر مقتولہ کے جنازے میں ہونے والی دہشت گردی کسی خوفناک فلمی منظر سے کم نہیں تھا۔ اس واقعے کو گذرے اب آٹھ سال ہو چکے ہیں لیکن وہ ان تکلیف دہ لمحات کو آج تک نہیں بھلا سکا ہے۔

عراق میں جرنلسٹ فریڈم آبزرویٹری کے صدر ھادی جلو مرعی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "اطوار بہجت کا بہیمانہ قتل صحافیوں کو بے دردی سے نشانہ بنانے کی ایک گھناؤنی مثال ہے۔ جس بے رحمی کے ساتھ اطوار اس کے ساتھیوں کو شہید کیا گیا اس سے لگتا ہے کہ دہشت گرد صحافیوں کوغیر جانب دارانہ رپورٹنگ پر یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ جو صحافی دہشت گردی کے واقعات کی حمایت نہیں کرے گا اس کا انجام بھی ایسا ہی ہوگا۔

اطوار کا آخری لائیو پیغام

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق المناک موت سے تین دن قبل اطوار بہجت نے خود ہی تاریخی کرکوک قلعہ کے حوالےسے "العربیہ" کے پروگرام "مھمہ خاصہ" کے لیے ایک خصوصی رپورٹ تیار کرنے تجویز دی۔ اس کی یہ تجویز قبول کر لی گئی۔ اطوار اپنی ٹیم کے ہمراہ سامرا سے کرکوک روانہ ہوئی جہاں رات انہوں نے قریبی شہر سلیمانیہ میں بسرکی۔ اگلی صبح انہیں کرکوک قلعہ کی فوٹیج تیار کرنا تھی۔ اگلے دن وہ کرکوک قلعہ کی فوٹیج لے کر واپس لوٹے ہی تھے کہ اسی شہر میں امام علی الھادی اور امام حسن عسکری کے مزارات پر بم حملوں کی خبر موصول ہوئی۔ اطوار اپنی ٹیم میں سے کسی بھی دوسرے ساتھی سے زیادہ بہتر انداز میں اس واقعے کی کوریج کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اس نے خود ہی موقعہ پر جا کر کوریج کرنے پر اصرار کیا۔

العربیہ نے اسے اپنی جان خطرے میں نہ ڈالنے کا مشورہ دیا لیکن اس نے جانے پر اصرار کیا۔ کیمرہ مین اور براسٹ کاسٹنگ انجینیئر کو ہمراہ لیے وہ متاثرہ مزارات کی طرف روانہ ہوئی لیکن انہیں راستے میں روک لیا گیا۔ بہجت نے وہیں راستے میں مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے اپنا لائیو فونو دیا۔ یہ اس کا آخری براہ راست پیغام تھا، جس کا اختتام ان الفاظ پر ہوا کہ "پیغام جسے تمام عراقی شہریوں کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے۔ قطع نظر اس بات کہ کوئی شیعہ ہے یا سنی، عرب ہے یا کرد۔ ایک عراقی شہری ہونے کے ناطے ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لیکن میں خبردار کرتی ہوں کہ ملک کے طول وعرض میں پھیلے موت اور خوف کے سائے تمام شہریوں پر یکساں چھائے ہو ئے ہیں۔ اطوار بہجت، العربیہ نیوز سامرا عراق"۔

اس کے بعد اطوار خود بھی اسی خوف کا شکار ہو گئی جس کے بارے میں وہ اپنے عزیز ہم وطنوں کو چند لمحے قبل خبردار کر رہی تھی۔

قاتل کا اعتراف جرم

اطوار بہجت کے سفاکانہ قتل میں ملوث ایک دہشت گرد کوعراقی سیکیورٹی حکام نے حراست میں لیا تو اس نے فوری طور پر اعتراف جرم کرلیا۔ مجرم کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے امام علی ھادی اور امام حسن عسکری کے مزارات کے باہر دھماکے کیے تو ہم دیکھنا چاہتے کہ ان دھماکوں کے نتیجے میں شیعہ، سنی فرقہ واریت میں کتنا اضافہ ہو سکتا ہے؟ ردعمل کے طور پر ہم نے میڈیا کی زبان وبیان اور انداز کلام اندازہ کیا کیا۔

العربیہ کی نامہ نگار اطوار بہجت نے اپنی لائیو رپورٹ میں کہا کہ مزارات میں بم دھماکوں کا فائدہ شیعوں کو ہو رہا ہے اور نہ ہی سنی مسلک کو۔ یہ ان ملک دشمن عناصر کی سازش ہے جو عراق کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی سنی یا شیعہ ملوث نہیں ہے۔ اس کے بعد ہمیں اعلیٰ کمان کی جانب سے ہدایت دی گئی کہ ہم فوری طور پر بہجت کا کام تمام کر دیں۔ حکم ملتے ہی ہم ایک تیز رفتار پیک اپ پر سوار ہوئے اور بہجت کے قریب جا پہنچے۔ اس وقت بہجت کے آس پاس عام شہریوں کی بڑی تعداد بھی جمع تھی۔ ہمیں دیکھتے ہی سب لوگ تتر بتر ہو گئے۔ میں اور میرے دونوں ساتھی"PKC" شارٹ گن سے مسلح تھے۔ میں نے بہجت اور اس کے ساتھیوں پر فائرنگ کی اور انہیں تڑپتا ہوا چھوڑ کر فرار ہو گئے"۔ بعد میں العربیہ نے قاتل کا یہ اقبالی بیان نشر بھی کیا۔

سنہ 2003ء میں اطوار بہجت نے اردنی اخبار"الوطن" کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکی فوج کےحملے میں سقوط بغداد کے سانحے نے اسے گہرا دکھ پہنچایا جس کے بعد اس نے شعرو شاعری شروع کر دی تھی۔ میری دلی تمنا تھی کہ عراق اپنی طاقت اور ہیبت قائم رکھے۔