.

غزہ: راہداریوں کا انتظام نجی شعبے کے سپرد کرنیکا اعلان

حماس نے اسمبلی کا اجلاس رفح کنارے خیموں میں منعقد کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں حکمران فلسطینی جماعت حماس نے اعلان کیا ہے کہ غزہ ، مصر اور اسرائیل کے درمیان سرحد عبور کرنے کی اجازت دینے کا اختیار نجی شعبے کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

حماس کے نائب وزیر اعظم زاید الزازا نےاس حوالے سے بتایا '' حماس حکومت یہ چاہتی ہے کہ سرحد عبور کرانے کے معاملے کا تکنیکی انتظام نجی شعبہ کو دے دیا جائے۔ اس سلسلے میں سات کاروباری حضرات کا کمیشن بنا دیا گیا ہے۔

تاہم نائب وزیر اعظم جو کہ غزہ کے وزیر خزانہ بھی ہیں نے واضح کیا ہے کہ سرحد عبور کرنے سے متعلق تمام ٹرمینلز کی مجموعی نگرانی حماس حکومت کے کنٹرول میں ہی رہے گی۔

واضح رہے غزہ کی ساحلی پٹی جس کی اسرائیل نے سمندری اور فضائی ناکہ بندی کر رکھی ہے، اس میں تین زمینی راہداریاں ہیں جن میں سے ایریز، کیریم شلوم نامی راہداریاں اسرائیل کی طرف کھلتی ہیں، جبکہ رفح کی راہداری مصر میں کھلتی ہے۔

حماس کے زیر حکومت غزہ کے اسرائیل کے ساتھ براہ راست سیاسی اور معاشی تعلقات نہیں ہیں کہ حماس اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا جبکہ اسرائیل حماس کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔

حماس جسے فلسطینی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے نے اتوار کے روز رفح کے علاقے میں اسمبلی کا خصوصی اجلاس خیموں میں منعقد کیا ہے۔ اس خصوصی اجلاس کا مقصد مصر سے رفح کی راہداری کھولنے کا مطالبہ کرنا تھا۔

اس موقع پر ڈپٹی سپیکر نے خطاب کرتے ہوئے کہا '' ہم یہاں اس لیے جمع ہیں کہ اپنے مصر میں موجود بھائیوں کو رفح کی راہداری کھولنے کیلیے کہہ سکیں۔''

واضح رہے مصر نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے مرسی حکومت کی برطرفی کے بعد رفح کی راہداری بند کر دی تھی۔ ان راہداریوں کی بندش سے غزہ کی عمومی زندگی بری طرح متاثر ہے اور اشیائے خوردو نوش کی دستیابی بھی ناممکن ہو رہی ہے۔