.

اقوام متحدہ سے شام کی خودمختاری کے احترام کا مطالبہ

غیرملکی پشت پناہی سے جاری دہشت گردی کے خاتمے پر توجہ دی جائے:وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی انسانی امداد تک رسائی سے متعلق قرارداد پر عمل درآمد کے لیے تعاون کو تیار ہے لیکن اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ اقوام متحدہ ریاست کی خودمختاری کا احترام کرے۔

شامی وزارت خارجہ نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر2139 کے نفاذ کے لیے تیار ہے۔سلامتی کونسل نے ہفتے کے روز اتفاق رائے سے اس قرارداد کی منظوری دی تھی۔اس میں انسانی امداد کے قافلوں کو جنگ زدہ ملک کے تمام علاقوں تک رسائی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی جانب سے جاری کردہ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی بحران کی بنیادی وجوہ کا خاتمہ کیا جانا چاہیے اور وہ غیرملکی پشتی بانی سے جاری دہشت گردی اور مغرب اور عرب ممالک کی جانب سے صدر بشارالاسد کی حکومت پر پابندیوں کا نفاذ ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''دمشق اقوام متحدہ کے ریزیڈینٹ کوآرڈی نیٹر(علاقائی رابطہ کار) اور انسانی امداد کے لیے شام میں کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو تیار ہے''۔

اس بیان میں قرارداد پر عمل درآمد کے لیے یہ شرائط عاید کی گئی ہیں کہ''اس کا اقوام متحدہ کے چارٹر میں وضع کردہ اصولوں ،بین الاقوامی قانون اور انسانی کام کی بنیادی اساس خاص طور پر ریاست کی خود مختاری اور اس کے کردار اور غیر جانبداری ،شفافیت اور غیر سیاسی امداد کے اصولوں کے مطابق نفاذ کیا جانا چاہیے''۔

بیان میں اقوام متحدہ کی جانب سے القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کے حملوں کی اقوام متحدہ کی جانب سے مذمت کو درست جانب میں اقدام قرار دیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ یہ دراصل شام میں القاعدہ سے وابستہ دہشت گردی کے وجود کا اعتراف ہے۔

واضح رہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف مارچ 2011ء سے جاری عوامی مزاحمتی تحریک اور خانہ جنگی کے دوران غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردی پر تشدد کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

شامی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل سے قرارداد کی منظوری کے بعد شام میں دہشت گرد گروپوں کی مالی وعسکری امداد ،تربیت اور اسلحہ مہیا کرنے والی ریاستوں کو ایسا کرنے سے باز رکھا جائے''۔بیان میں کسی خاص ملک کا نام تو نہیں لیا گیا ہے لیکن اس میں واضح اشارہ سعودی عرب ،قطر اور ترکی کی جانب ہے جو شامی فوج سے برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی مالی و اسلحی امداد کررہے ہیں جبکہ شامی صدر کو روس ،ایران اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی ہرطرح کی مدد حاصل ہے۔