.

ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات، اسرائیل تشویش کا شکار

بیلجیئم کا ایران اور مغرب کے درمیان اعتماد سازی پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بجمن نیتن یاھو نے عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران عالمی برادری سے سب کچھ حاصل کر رہا ہے لیکن اس کے بدلے میں عملا دے کچھ بھی نہیں رہا ہے۔

اسرائیلی ریڈیو کے مطابق نیتن یاھو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طاقتوں کے مذاکرات کے باوجود تہران کو جوہری بم بنانے سے روکا نہیں جا سکا ہے۔ ایران اب بھی کم سے کم وقت میں ایمٹی قوت بننے کے لیے پرعزم ہے۔ تہران اپنے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے تمام کوششیں بروئے کار لا رہا ہے جبکہ عالمی برادری تذبذب کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان کوئی ڈیل نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کے سنگین مضمرات سامنے آسکتے ہیں"۔
ادھر اتوار کی شام جرمن چانسلر انجیلا میرکل بھی اسرائیل کے دورے پر تل ابیب پہنچی ہیں۔ میرکل کی آج اسرائیلی عہدیداروں سے ملاقات متوقع ہے۔

اعتماد سازی پر زور

درایں اثناء بیلجیئم کے وزیر خارجہ ڈیڈییے رینڈیرز نے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے فروغ اور دو طرفہ تعلقات کی بہتری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بیلجیم کے وزیر خارجہ نے یہ بات کل اتوار کو دورہ ایران کے دوران تہران میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ مغرب اور تہران کے درمیان دوستانہ تعلقات کے قیام کی بنیاد بننا چاہیے۔

اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر رینڈیرز کا کہنا تھا کہ "ہمارا اصل مقصد ایران اور مغرب کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینا ہے۔ یہ مقصد صرف مسلسل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حاصل ہو سکتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ مغرب اور ایران مل کر تہران کے جوہری پروگرام کے تنازع کا حل نکال لیں گے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ آنے والے وقت میں اسلامی جمہوریہ ایران اور مغربی ممالک میں باہمی اعتماد سازی میں مزید اضافہ ہو گا۔

اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ان کا ملک جوہری تنازع پر بامقصد مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت نے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنایا ہے۔ میں اپنے یورپی دوستوں سے کہوں گا کہ وہ ایران میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے ایرانی حکومت پر شام کے مسئلے کے سیاسی حل میں مدد فراہم کرنے اور ایران سے منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام میں تعاون پر بھی زور دیا۔