.

مکہ مکرمہ: مویشیوں کو ہلاک کرنے والا نایاب چیتا ہلاک

لوگوں نے مردہ چیتا فروخت کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہروں مکہ مکرمہ اور طائف کے باسی شیر اور چیتے سے واقف تو ہیں مگر انہوں نے کسی خونخوار چیتے کو مردہ حالت میں درخت سے لٹکے کبھی نہ دیکھا ہو گا۔

یہ دلچسپ منظر حال ہی میں اس وقت پیش آیا جب ایک مردہ جانور کے گوشت میں زہر ڈالا گیا تو اسے کھانے کے بعد ایک چیتے کو مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ جسے دیکھتے ہی ایک شخص نے ایک درخت کے ساتھ لٹکا دیا اور بڑی تعداد میں لوگ اسے دیکھنے جمع ہوگئے تھے۔ یہ واقعہ مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وادی نعمان کے الشق قصبے میں پیش آیا۔ بعد ازاں شہریوں نے مردہ چیتا فروخت کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پچھلے چند ماہ سے وادی النعمان کے شہری اپنے مویشیوں بالخصوص اونٹوں کے کسی خونخوار درندے کے حملے میں مارے جانے کی مسلسل شکایات کر رہے تھے لیکن وہ اس خونخوار جانور کی پہچان میں بری طرح ناکام تھے۔ شہریوں کا خیال تھا کہ جانوروں پر حملہ کرنے والا کوئی صحرائی بھیڑیا ہے، جو اونٹوں کو بھی چیر پھاڑ کر کھا جاتا ہے۔

مقامی شہریوں کے اونٹ جگہ جگہ مرے پڑے ہوتے جنہیں بری طرح چیرا پھاڑا گیا ہوتا۔ جمعہ کی شام جبیرالمطرفی نامی ایک عرب شہری کا اونٹ مار دیا گیا۔ اونٹ کے مالک نے اس میں زہر ملا دیا تاکہ درندے سے نجات حاصل کی جا سکے۔ اگلی صبح مردہ اونٹ کے قریب ایک نایاب عربی چیتے کو مردہ حالت میں دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔

وادی نعمان کے ایک مقامی شہری ماطر السویدی نے بتایا کہ اس علاقے میں ایک نایاب چیتے کی موجودگی کا علم انہیں سنہ 1970ء میں ہوا تھا لیکن اس کے بعد سے اس کا کوئی پتہ نہیں چلا۔ لوگ یہی سمجھتے رہے کہ چیتا کہیں دور چلا گیا ہے یا مار دیا گیا ہے تاہم حال ہی میں جب انہوں نے ایک مردہ جانور میں زہر ڈالا تو اس کے نتیجے میں مرنے والا جانور وہی نایاب چیتا تھا۔ ہمیں اسے مردہ دیکھ کر بہت رنج ہوا۔

درایں اثناء سعودی عرب کے محکمہ تحفظ حیوانات و جنگلی حیات شہزادہ بندر بن سعود کا کہنا ہے کہ وادی النعمان کے جس شخص نے نایاب چیتے کو زہردے کر ہلاک کیا اس نے شہر سے باہر ایک دوسرے شخص کو وہ مردہ چیتا فروخت کردیا تھا۔ انہوں نے چیتے کے خریدار سے بھی رابطہ کیا ہے جس نے چیتا ایک دن میں ان کے حوالے کرنے کا کہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ بندر بن سعود نے کہا کہ مقامی شہریوں کو چاہیے تھا کہ وہ خود چیتے کو ہلاک کرنے کے بجائے متعلقہ حکام سے اس سلسلے میں رابطہ کرتے تاکہ نایاب جنگی حیات کو بچایا جا سکے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب، اردن، سلطنت آف اومان، یمن اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے ممالک میں نایاب عربی چیتوں کی مجموعی تعداد 50 سے 200 کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس طرح کے دس چیتے طائف کے نیشنل ریسرچ سینٹر کے زیر انتظام چڑیا گھر میں بھی موجود ہیں۔