.

شام میں جاری خانہ جنگی سے ناروے بھی خطرے سے دوچار

ناروے کے پچاس جنگجو شام کے محاذ جنگ میں شریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ملک ناروے کے انٹیلی جنس حکام نے خبردار کیا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ناروے بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے کیونکہ ناروے سے تعلق رکھنے والے دسیوں عسکریت پسند اس وقت شام کے محاذ جنگ پر موجود ہیں جو اپنے ملک کے لیے بھی سیکیورٹی ریسک ہیں۔

ناروے کے بیرون ملک انٹیلی جنس شعبے کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات سے متعلق جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کے ملک سے کم وبیش 50 عسکریت صدر بشار الاسد کےخلاف بر سر جنگ ہیں۔ ان تمام عناصر کا تعلق سخت گیر گروپوں سے ہے جو تشدد پر یقین رکھتے اور پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں۔

ناروے کےانٹیلی جنس چیف جنرل کیال گرانڈ ھیگن کا کہنا ہے کہ "دہشت گردی کے جس خطرے کی جانب ہم اشارہ کر رہے ہیں وہ پہلے سے موجود تھا لیکن 2014ء کے دوران اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ جن جہادی عناصر پر سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے نظر رکھی ہوئی ہے وہ القاعدہ سے وابستہ دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] اور النصرہ فرنٹ کی طرز کی شدت پسند مذہبی جماعتوں سے وابستہ ہیں۔

جنرل گرینڈ ہیگن کا کہنا تھا کہ ان کے اندازوں کے مطابق یورپی ملکوں سے شام میں 2000 جنگجو جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ناروے کے اخبار"فریڈنس گینگ" کی رپورٹ کے مطابق 18 جنوری کو ناروے کی 10 جنگجو عورتیں شامی باغیوں کی مدد کے لیے بیرون ملک چلی گئی تھیں۔