.

''رقم ٹھکانے لگا دو'' بیٹے کو ایسا کچھ نہیں کہا: طیب ایردوآن

ترک وزیر اعظم پر آڈیو ٹیپ کے حوالے سے الزام عاید کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کے دفتر نے اپنے اور اپنے بیٹے کے ان مبینہ آڈیو ٹیپس کو جعلی قرار دے دیا ہے۔ ان آڈیو ٹیپس میں وزیر اعظم اور ان کے بیٹے کو بھاری رقومات چھپانے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سنایا گیا ہے۔

ان پر یہ الزام فون ٹیپنگ کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ جس میں طیب ایردوآن مبینہ طور پر اپنے بیٹے سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے گھر میں پڑے لاکھوں یوروز کو ٹھکانے لگا کر ان سے کسی طرح نجات پا لے۔

اس سکینڈل کو سامنے لانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈنگ ماہ دسمبر میں کی گئی تھی۔ ترک وزیراعظم کے درجنوں ساتھی پہلے ہی مبینہ کرپشن الزامات کی زد میں آ چکے ہیں۔ ان میں سے کئی زیر حراست ہیں اور کئی سے تحقیقات جاری ہیں۔

اس صورت حال نے طیب ایردوآن کے گیارہ سالہ دور اقتدار کو خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔ خصوصا اگلے چند ہفتوں میں آنے والے بلدیاتی انتخابات اس سلسلے میں پہلا مشکل مرحلہ ہو گا۔

وزیر اعظم ان سارے الزامات کی ذمہ داری امریکا میں مقیم اسلامی دانشور فتیح اللہ گولین پر عاید کرتے ہیں۔ ۔ طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ فتیح اللہ گولین متوازی ترک ریاست کے خواہاں ہیں۔

پیر کے روز حکومت نے الزام عاید کیا ہے کہ وزیر اعظم سمیت ہزاروں بااثر شخصیات کے فون فتیح اللہ کے کہنے پر پولیس افسران ٹیپ کر رہے ییں۔

وزیر اعظم طیب ایردوآن کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کو نشانہ بنانے کیلیے جن لوگوں نے یہ جال بنا ہے انہیں قانون کے سامنے جواب دہ ہونا ہو گا۔