.

مصر:سبکدوش وزیرمکانات کو نئی حکومت بنانے کی دعوت

حازم الببلاوی کے استعفے کے ایک روز بعد ابراہیم محلب عبوری وزیراعظم نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے حازم الببلاوی کی کابینہ کے اچانک استعفے کے ایک روز بعد سبکدوش وزیرمکانات ابراہیم محلب کو وزیراعظم نامزد کرکے نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔

ابراہیم محلب کو جولائی 2013ء میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد تشکیل پانے والی عبوری کابینہ میں وزیرمکانات بنایا گیا تھا اور وہ سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی کالعدم جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق عہدے دار بھی رہے تھے۔

وہ پیشے کے اعتبار سے سول انجینیر ہیں اور مصر کی سب سے بڑی سول انجینیرنگ فرم عرب کنٹریکٹرز کمپنی کے چئیرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسرز رہ چکے ہیں۔وہ انگریزی اور فرانسیسی روانی سے بول سکتے ہیں۔

حازم الببلاوی نے اپنی کابینہ کے اچانک مستعفی ہونے کا کوئی واضح جواز پیش نہیں کیا۔البتہ انھوں نے ٹیلی ویژن سے نشر کیے گئے بیان میں صرف اتنا کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ ان کی کابینہ نے مصر کو برے مرحلے سے نکالنے کے لیے اپنے حصے کا بہت سا کام کرلیا ہے اور کابینہ نے صدر جمہوریہ کو اپنا استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ ذاتی مفادات کا وقت نہیں ہے اور قوم ہر چیز سے بالاتر ہے''۔ان کے اس اعلان سے آرمی چیف فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کے صدارتی انتخاب لڑنے کا اعلان کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔انھوں نے اگر صدارتی انتخاب لڑا تو ان کی کامیابی یقینی نظر آرہی ہے۔تاہم انھیں اس سے قبل وزیردفاع کا منصب چھوڑنا ہوگا۔

مصر کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''حکومت کی جانب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ السیسی کے صدارتی نتخاب لڑنے کا اعلان کرنے سے قبل ضروری تھا کیونکہ سیسی یہ نہیں دکھانا چاہتے تھے کہ وہ اکیلے ہی صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔

مستعفی وزیراعظم کے بہ قول ان کی کابینہ نے اپنے حصے کا تو کام کر لیا ہے لیکن ان کی حکومت نے ایسے وقت میں اقتدار چھوڑا ہے جب مصری شہریوں کو کھانا پکانے کے لیے گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے اور متعدد محکموں اور شعبوں میں ہڑتالیں جاری ہیں۔