عراق:سکیورٹی فورسز پر حملوں میں 14 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے مغربی شہر الرمادی مِیں خودکش بم دھماکے سمیت دوسرے علاقوں میں مختلف حملوں میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شورش زدہ صوبے الانبار کے دارالحکومت رمادی میں منگل کو صوبائی کونسل کے ہیڈکوارٹرز کے نزدیک خودکش بم دھماکا ہوا ہے۔اس میں تین فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

بغداد سے شمال مغرب میں واقع قصبے بیجی میں مسلح افراد نے پولیس کے ایک چیک پوائنٹ پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں چار پولیس افسر ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبہ نینویٰ میں بم دھماکے میں دو پولیس افسر مارے گئے اور چار زخمی ہوگئے۔شمالی شہر طوزخرماتو میں سڑک کے کنارے نصب بم کا دھماکا ہوا ہے اور اس سے ایک شہری ہلاک ہوگیا۔

دارالحکومت بغداد کے وسطی علاقے میں بھی ایک کار بم دھماکا ہوا ہے اور اس حملے میں چار افراد مارے گئے اور تیرہ زخمی ہوگئے۔سوموار کو عراق کے مختلف شہروں میں تشدد کے واقعات میں پینتیس افراد مارے گئے تھے۔فروری میں اب تک تشدد کے واقعات میں چھے سو افراد مارے جاچکے ہیں اور 2014ء کے آغاز کے بعد سے ساڑھے سولہ سو افراد تشدد کے واقعات کی نذر ہوچکے ہیں۔

صوبہ الانبار میں عراقی سکیورٹی فورسز اور القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں کے درمیان جنوری کے آغاز سے لڑائی جاری ہے۔دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے وابستہ جنگجوؤں نے اس صوبے کے دوبڑے شہروں رمادی اور سامراء میں اہم سرکاری عمارتوں پر قبضہ کررکھا ہے اور عراقی فورسز اب تک ان دونوں شہروں کا کنٹرول واپس لینے میں ناکام رہی ہیں۔

عراقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں جنوری میں تشدد کے واقعات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ عراق کی تین وزارتوں صحت ،داخلہ اور دفاع کی جانب سے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق جنوری میں کل 1013 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ان میں 795 عام شہری ،122 فوجی اور 96 پولیس اہلکار شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں