.

مصری عدالت: تین سیاسی کارکنوں کو تین سال قید کی سزا

کارکنوں نے فوجی نگرانی میں دستور سازی کا بائیکاٹ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری عدالت نے نئے دستور کیلیے جنوری کے وسط میں کرائے گئے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کرنے پر تین سیاسی کارکنوں کو تین تین سال کی سزائے قید سنا دی ہے۔

مصر کی فوجی حمایت سے قائم عبوری حکومت نے منتخب پارلیمنٹ کا منظور کردہ دستور ختم کر کے اس کی جگہ نیا دستور متعارف کرایا ہے۔ جس کیلیے فوج کی طرف سے پیش کیے گئے نقشہ کار کے تحت کرائے گئے ریفرنڈم کا جمہوریت پسند جماعتوں اور اخوان المسلمون نے بائیکاٹ کیا تھا۔

جن تین سیاسی کارکنوں کو سزائے قید سنائی گئی ہے ان کا تعلق معزول کیے گئے صدر محمد مرسی کی جماعت سے ہے۔ تینوں کارکنوں کو پانچ سو مصری پاونڈز فی کس کے حساب سے جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

ان کارکنوں پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ ان تینوں کی وابستگی ایک دہشت گرد گروہ سے ہے جو مصر کا امن و امان تباہ کرنا چاہتا ہے اور لوگوں کو دستور کی منظوری کیلیے کرائے جانے ریفرنڈم کے بائیکاٹ پر اکساتا ہے۔

واضح رہے تینوں سیاسی کارکنوں کو ان کی عدم موجودگی میں سزا سنائی گئی ہے ، تاہم انہیں سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ اپیل کرنے سے پہلے انہیں خود کو حکام کے حوالے کرنا ہو گا۔

ان سیاسی ورکرز کو ماہ جنوری میں مختصر مدت کیلیے قاہرہ کے شمالی حصے سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ پوسٹر لگا رہے تھے اور گلی محلوں میں جا کر لوگوں کو ریفرنڈم کا بائیکاٹ کرنے کیلیے کہہ رہے تھے۔

واضح رہے مصر کا نیا دستور فوج کو زیادہ اختیارات دیتا ہے۔ اس دستور میں وزیر دفاع کا تقرر فوج کی منظوری سے ہی ممکن ہو سکے گا جبکہ فوج سویلینز کے خلاف مقدمات بھی چلا سکے گی۔ واضح رہے مرسیٰ کی برطرفی کے بعد سے اب تک سینکڑوں سیاسی کارکن ہلاک اور ہزاروں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔