.

اردن: ارکان پارلیمان کا اسرائیل سے امن معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے سینتالیس ارکان پارلیمان نے اسرائیل کے ساتھ 1994ء میں طے پایا امن معاہدے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اردن پارلیمان کے ایوان زیریں کے ڈیڑھ سو میں سے سینتالیس ارکان نے اسرائیلی پارلیمان کنیست میں مسجد اقصیٰ پر صہیونی ریاست کی عمل داری قائم کرنے سے متعلق قانون پر بحث کے ردعمل میں یہ تحریک پیش کی ہے۔

اردنی روزنامے 'الرائے' کی رپورٹ کے مطابق قرارداد کے محرکین کا کہنا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق اسرائیلی اقدامات کے جواب میں ایوان میں یہ تحریک لائے ہیں۔اس میں اسرائیل پر اردن کے ساتھ طے پائے امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔اخبار کے مطابق اس تحریک اور اس کے مضمرات پر بدھ کو بحث شروع ہونے والی تھی۔

اس تحریک میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات امن معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہیں اور یہ اردنی تولیت کے خلاف جارحیت ہیں۔یادرہے کہ اردن اور اسرائیل کے درمیان 1994ء میں امن معاہدہ طے پایا تھا۔اس کے تحت اردن مقبوضہ بیت المقدس میں مقدس مقامات کا متولی ہے۔

ان میں مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا تیسرا مقدس مقام ہے اور اسے وہ الحرم الشریف کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔اس مسجد کے احاطے کو یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے پکارتے ہیں اور یہود کے نزدیک یہ سب سے مقدس ترین جگہ ہے۔اسی سے متصل دیوار گریہ ہے اور قبۃ الصخرہ بھی اسی میں واقع ہے۔

اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں مقبوضہ بیت المقدس پر قبضے کے بعد اسے ریاست میں ضم کرلیا تھا.اب وہ اس شہر کو اپنا غیر منقسم دارالحکومت قرار دیتا ہے لیکن عالمی برادری نے کبھی اس کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا اور وہ اسے ایک مقبوضہ شہر ہی قرار دیتی ہے.

فلسطینی مشرقی القدس کو مستقبل میں غزہ اور غرب اردن کے علاقے پر مشتمل قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔امریکا کی ثالثی میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات میں دوسرے امور کے علاوہ مقبوضہ بیت المقدس کے ایشو کا بھی تصفیہ کیا جائے گا۔