.

ایران و قطر کے درمیان شام میں سیاسی حل پر اتفاق

شامی تنازعہ کے حوالے سے قطری سوچ میں تبدیلی کا اشارہ ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطراور ایران نے شام میں جاری مسئلے کے سیاسی حل کی حمایت کی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ اتفاق اس کے باوجود سامنے آیا ہے کہ دونوں ملک شام میں متحارب فریقین کی مدد کرتے ہیں۔

قطر کے وزیر خارجہ خالد العطیہ نے دورہ ایران کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کہا '' ہر کوئی ایک نکتے پر متفق ہے کہ شام کا تنازعہ سیاسی طریقے سے طے ہونا چاہیے ۔''

ان کا یہ بھی کہنا تھا '' دونوں ملکوں کے درمیان مختلف نکتہ نظر کے باوجود بعض امور پر ایک سوچ پائی جاتی ہے، ہم انہیں انقلابی کہتے ہیں جو گولیوں کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے حقوق کیلیے جدوجہد کر رہے ہیں۔''

واضح رہے قطر اور ایران دونوں ملک شام میں تین سالہ خانہ جنگی کے بارے میں متضاد موقف کے حامی رہے ہیں، ایران بشارالاسد رجیم کا کٹر حامی ہے جبکہ دوحا شامی باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس عرصے میں ایک لاکھ چالیس ہزار شامی لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی اس نیوز کانفرنس سے ایک روز پہلے ایران کے ایک با اثر رکن پارلیمنٹ علاوالدین بو روجوردی نے دورہ دمشق کے موقع پر کہا قطر اب زیادہ عرصہ تک شام کے حوالے سے اہم کھلاڑی نہیں رہے گا۔''

انہوں نے مزید کہا '' ہم توقع کرتے ہیں کہ قطر شام کے بارے میں ایک مختلف کردار ادا کرے گا، کیونکہ ورق پلٹا جانے والا ہے۔'' لیکن ابھی اس پیش رفت کو شام کے حوالے سے قطری سوچ میں واضح تبدیلی کا اشارہ کہنا شاید مشکل ہے۔