.

شامی فوج اور حزب اللہ کے حملے میں 175 باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور اس کی اتحادی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں نے ایک حملے میں ایک سو پچھہتر باغی جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

شامی کارکنان کی اطلاع کے مطابق لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے مشرقی غوطہ کے علاقے میں باغی جنگجوؤں کے خلاف حملے کی قیادت کی ہے۔شام کے سرکاری خبررساں ادارے سیرین عرب نیوز ایجنسی (سانا) کی اطلاع کے مطابق مشرقی غوطہ میں حزب اختلاف کے زیر قبضے علاقے میں حملے میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں یا دوسرے غیرملکی جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

حزب اللہ کے زیرانتظام لبنان کے المنار ٹیلی ویژن چینل نے مشرقی غوطہ کے ایک قصبے عتیبہ کے نزدیک ایک شاہراہ پر متعدد جنگجوؤں کی لاشیں پڑی ہوئی دکھائی ہیں۔سانا کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے دہشت گردوں کو بڑا دھچکا لگے گا۔واضح رہے کہ شام کا سرکاری میڈیا حکومت مخالف جنگجوؤں کے لیے یہی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

غوطہ سمیت شامی دارالحکومت کے نواحی علاقے مارچ 2011ء سے حزب اختلاف کی قوتوں کے کنٹرول میں ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی غوطہ میں اس حملے کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ صرف ستر باغی جنگجو مارے گئے ہیں۔البتہ اس کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ نواسی باغی لاپتا ہیں۔

سانا نے مشرقی غوطہ سے تعلق رکھنے والے ایک فیلڈ کمانڈر کا بیان نقل کیا ہے جس میں اس نے کہا کہ عتیبہ کے نزدیک مارے گئے زیادہ تر افراد کا تعلق النصرۃ محاذ سے تھا۔سانا نے اپنی ویب سائٹ پر ان مقتولین کی کھلے میدان میں پڑی ہوئی لاشیں بھی دکھائی ہیں۔