.

سعودی دوشیزہ کو بلیک میل کرنے والا خود حوالات میں بند

انٹرنیٹ پر دوستی کا شاخسانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مذہبی پولیس امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے انٹرنیٹ پر دوستی کا سوانگ رچا کر لڑکی کو بلیک میل کرنے کے الزام میں القصیم شہر کے ایک نوجوان کو حراست میں لیا ہے جس کے خلاف مناسب قانونی اور تادیبی کارروائی کی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک تیس سالہ خاتون نے "القصیم" پولیس کو بتایا کہ حال ہی میں اس کی انٹرنیٹ پر ایک نوجوان سے جان پہچان ہوئی تھی جس کے بعد اب وہ اسے بلیک میل کر رہا ہے۔

لڑکی نے بتایا کہ انٹرنیٹ پر رابطے کے دوران نوجوان نے اسے شادی کی پیشکش کی اور اس سے کچھ تازہ تصاویر طلب کیں۔ لڑکی نے اس کی باتوں میں آ کر تصاویر ارسال کر دیں۔ لڑکے نے اگلا مطالبہ اس سے براہ راست ملاقات کا کر ڈالا۔ دونوں میں ملاقات بھی ہوئی۔ اب وہ [لڑکا] نہ تو شادی کر رہا ہے اور نہ اس کی جان چھوڑ رہا ہے۔ شکایت کنندہ لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کا خود ساختہ "بوائے فرینڈ" اب اسے بلیک میل کرتے ہوئے دھمکی دے رہا ہے کہ اگر اس نے کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کی تو وہ اس کی تصاویر انٹرنیٹ پر شائع کر دے گا۔

پولیس ترجمان عبداللہ المنصور نے بتایا کہ لڑکی کی شکایت مذہبی پولیس نے فوری کارروائی کرکے ایک لڑکے کو حراست میں لے لیا ہے جس سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر شہریوں کو بلیک میل کرنے کے واقعات عام ہیں۔ اس لیے صارفین کو نہایت احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ خواتین کو اس ضمن میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی نامعلوم شخص کی جانب سے خواتین کو بلیک میل کرنے اور انہیں اپنے چنگل میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہو تو انہیں چاہیے کہ وہ فوری طور پر پولیس کو آگاہ کریں۔