.

لبنان حزب اللہ کے خطرے کو روکے: اسرائیل کا انتباہ

صہیونی ریاست پر کوئی حملہ ہوا تو ذمے دار لبنان ہو گا: اسرائیلی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے لبنان کو خبردار کیا ہے کہ وہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو روکے اور صہیونی ریاست پر کوئی حملہ ہوا تو وہ ذمے دار ہو گا۔

اسرائیل کے تزویراتی امور کے وزیر یووال اسٹینٹنز نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اگر لبنانی سرزمین سے اسرائیل پر کوئی حملہ ہوا تو ہم لبنان ہی کو اس کا ذمے دار سمجھیں گے۔یہ لبنانی حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ دہشت گردی کے کسی بھی حملے کو روکے خواہ یہ ریاست اسرائیل پر دہشت گردی کا حملہ ہو یا میزائل حملہ یا کوئی اور نوعیت کا حملہ ہوا''۔

واضح رہے کہ جنگ پسند اسرائیلی عہدے دار صہیونی فوج کی ظالمانہ اور جارحانہ کارروائیوں کے ردعمل میں فلسطینی مزاحمت کاروں یا حزب اللہ کے حملوں کو تو دہشت گردی قراردیتے ہیں لیکن اپنے جارحانہ حملوں کو بالکل جائز قراردیتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر نے یہ انتباہ اسی ہفتے شام کی سرحد کےنزدیک واقع حزب اللہ کے ایک ٹھکانے پر صہیونی فوج کے فضائی حملے کے بعد جاری کیا ہے۔سوموار کی رات اس حملے میں حزب اللہ کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے اور اس نے بدھ کو جوابی حملے کی دھمکی دی تھی۔

اسرائیل نے اپنی پالیسی کے مطابق فضائی حملے کی ہنوز تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔اسرائیلی فوج نے گذشتہ سال کے دوران بھی حزب اللہ کے گاڑیوں کے تین قافلوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا تھا۔ان قافلوں کے ذریعے مبینہ طور پر شام سے خطرناک ہتھیار لبنان منتقل کیے جارہے تھے لیکن انھیں شام ہی میں تباہ کردیا گیا۔

حزب اللہ نے غیرمعمولی انداز میں اسرائیلی حملے کے ردعمل میں بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیل کو مناسب انداز میں اور مناسب وقت پر جواب دیا جائے گا۔اسرائیل کے انتہا پسند قائدین ماضی میں حزب اللہ سے کسی خطرے یا اس کے ساتھ کسی نئے تنازعے کی صورت میں پورے لبنان میں کہیں بھی حملوں کی دھمکی دے چکے ہیں۔حزب اللہ لبنان کی حکومت کا حصہ ہے اور صہیونی ریاست کا کہنا ہے کہ اس کے مفادات پر حملہ ہوتا ہے تو پورے لبنان ہی کو اس کا ذمے دار سمجھا جائے گا۔

اسرائیل ٹیکنیکل طور پر لبنان اور شام کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ حزب اللہ 2006ء میں اسرائیلی فوج کے ساتھ چونتیس روز تک جنگ لڑ چکی ہے۔تاہم اب اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکیوں کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں ہے کیونکہ اس کے جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغی جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں الجھے ہوئے ہیں اور وہ کوئی نیا محاذ کھولنے کی پوزیشن میں نہیں۔