.

مصر:ٹرین حادثے کے ذمے دار ریلوے ملازمین کی سزا برقرار

اپیل عدالت نے دس سال قید میں تخفیف کی درخواست مسترد کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اپیل عدالت نے نومبر 2012ء میں ایک اسکول بس اور ٹرین کے تباہ کن تصادم کے واقعہ میں مجرم قراردیے گئے دو ریلوے ملازمین کی دس سال قید کی سزا برقرار رکھی ہے اور ان کی درخواست مسترد کردی ہے۔

واضح رہے کہ دارالحکومت قاہرہ سے 360 کلومیٹر جنوب میں واقع منفلوط میں ایک ریلوے کراسنگ پر بچوں کی بس سے ایک ٹرین ٹکرا گئی تھی اور اس کے نتیجے میں چار سے بارہ سال کی عمر کے سینتالیس بچوں سمیت باون افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

اس حادثے کے الزام میں ریلوے کے دو ملازمین کو فرائض سے غفلت اور بچوں کے قتل عام کے الزام میں جون 2013ء میں مصر کی ایک عدالت نے قصوروار قرار دے کر دس سال قید کی سزا سنائی تھی اور ان پر ایک ایک لاکھ مصری پاؤنڈ جرمانہ عاید کیا تھا۔

ٹرین اور بس کے خوفناک تصادم پر مصر میں ایک طوفان برپا ہوگیا تھا اور لوگوں نے تب مصر کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کی جماعت اخوان المسلمون کو ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر نہ بنانے پر مورد الزام ٹھہرایا تھا حالانکہ انھیں تب حکومت سنبھالے چند ماہ ہی ہوئے تھے۔

مصر میں ریلوے ٹریک ناکارہ ہونے ،ملازمین کی فرائض سے غفلت اور دیگر مسائل کی وجہ سے آئے دن حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔2002ء میں سب سے تباہ کن ریل حادثہ پیش آیا تھا اور ایک مسافر ٹرین میں آتشزدگی کے نتیجے میں تین سو ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔