.

حزب اللہ پر روس سے بھاری اسلحہ لینے کا اسرائیلی الزام

'اسلحے سے طرطوس شہر کا دفاع کیا جا رہا ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ پر روس سے بھاری ہتھیار اور P-800 طرز کے میزائل حاصل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

حیفا میں متعین اسرائیل کے ایک فوجی عہدیدار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ شام کے طرطوس شہر میں روس کے ایک فوجی اڈے کے تحفظ کے بدلے میں ماسکو سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حاصل کر رہی ہے۔

اسرائیلی عہدیدارکا یہ بیان اخبار"ورلڈ ٹرائیبون" نے نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ماسکو سے حاصل کردہ P-800 طرز کے یہ میزائل لبنان اور شام کے درمیان سرحدی علاقے میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ روسی ساختہ P-800 میزائل تین سو کلومیٹر دور تک جنگی جہازوں اور آبدوزوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حزب اللہ، ماسکو سے براہ راست اس کا اسلحہ حاصل کرنے کے بجائے شام میں موجود روسی ہتھیاروں سے استفادہ کر رہی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ دمشق اور روس کے درمیان جب بھی کوئی دفاعی معاہدہ ہوتا ہے تو اس کا بالواسطہ فائدہ حزب اللہ کو بھی پہنچتا ہے کیونکہ اسلحے کی وافر مقدار حزب اللہ لے جاتی ہے۔

ماسکو اور دمشق کے درمیان سنہ 2007ء اور 2011ء میں میزائلوں کی خریداری کے دو الگ الگ معاہدے ہو چکے ہیں۔ امریکا نے ان معاہدوں پر گہری تشویش کا بھی اظہار کیا تھا تاہم روسی وزیر خارجہ نے امریکی تشویش نظرانداز کرتے ہوئے دفاعی معاہدے پر اطمینان کا اظہارکیا تھا۔ روسی وزیرخارجہ سیرگئی لافروف کا کہنا ہے کہ شام کے شمال مغرب میں "طرطوس" شہر میں ان کا ایک فوجی اڈا قائم ہے جس کی حفاظت کے لیے دمشق اور ماسکو کے درمیان دفاعی تعاون کیا جا رہا ہے۔

روس اور شام کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدوں پر تنقید کرنے والے ممالک کا کہنا ہے کہ یہ بھاری ہتھیار حزب اللہ جیسے دہشت گرد گروپوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جو مشرق وسطیٰ میں بدامنی کا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

مئی 2013ء میں روس نے شام کو دور مار میزائلوں کی بھاری مقدار فراہم کی تھی، جنہیں اللاذقیہ شہر میں رکھا گیا تھا۔ پانچ جولائی کو اسرائیل نے فضائی حملہ کرکے انہیں تباہ کردیا تھا، تاہم امریکی اخبار"نیویارک ٹائمز" کے مطابق شامی حکومت کچھ میزائل اسرائیلی حملے سے قبل محفوظ مقامات پر منتقل کرنےمیں کامیاب ہو گئی تھی۔