.

شام: داعش اور الرقہ کے عیسائیوں میں جزیہ کی ادائیگی کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کی ذیلی تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] اور شامی شہر الرقہ کے عیسائیوں کے درمیان جزیہ کی ادائی کا ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ اس معاہدے سے متعلق خبریں پہلے بھی آ رہی تھیں لیکن اب شدت پسند تنظیم نے اپنی ویب سائیٹ پر خود بھی اس کا عربی متن جاری کر دیا ہے۔

جزیے کی ادائی کے حوالے سے طے پانے والے اس معاہدے پر "داعش" کے مندوبین اور مقامی مسیحی رہ نماؤں کے دستخط کئے ہیں۔

داعش اورعیسائیوں کے درمیان طے پائے اس عہد نامے کا آغاز بسم اللہ شریف سے ہو رہا ہے، جس کے بعد قرآنی آیات کے ذریعے اسلام کے شرعی اصولوں کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ عہدے نامے میں کہا گیا ہے کہ "الحمد للہ ۔۔ اللہ جل شانہ نے اپنے موحد بندوں کو الرقہ شہر میں اسلامی شریعت کے نفاذ کی توفیق عطا کی ہے۔ نفاذ شریعت کے بعد وہاں کی غیر مسلم آبادی بالخصوص نصاریٰ کے لیے تین آپشن مقرر کیے جاتے ہیں۔ وہ ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔
اول یہ کہ وہ شرک چھوڑ کر دین اسلام میں داخل ہو جائیں۔ دوم: وہ اپنے دین پر قائم رہیں لیکن اسلامی شریعت کے مطابق جزیہ ادا کریں اور سوم یہ کہ اگر وہ جزیہ بھی نہیں دینا چاہتے تو ان کے اور داعش کے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔

داعش کی جانب سے ذمیوں سے متعلق عہد نامہ جاری ہونے کے بعد گذشتہ بدھ کو داعش اور عیسائی برادری کے مقامی مندوبین کا ایک اہم اجلاس بھی ہوا ہے جس میں تقریبا بیس افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں عیسائی رہ نماؤں نے جزیہ کی ادائیگی کی شرط تسلیم کرلی جس کے بدلے میں شدت پسند تنظیم کی جانب سے ان کے تمام بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ فی الحال یہ عہد نامہ صرف الرقہ شہر میں نافذ العمل رہے گا۔

جزیے کا تعین

معاہدے میں جزیے کے تعین کے لیے واضح احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں عیسائیوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ امراء، متوسط طبقہ اور غریب۔ یہ تینوں طبقات سال میں دو مرتبہ جزیہ ادا کریں گے۔ امراء کے لیے جزیہ کی فی کس رقم 13 گرام خالص سونا یا اس کے مساوی رقم، متوسط طبقے کے لیے اس کا نصف اور غریبوں کے نصف کا نصف مقرر کیا گیا ہے۔

معاہدء میں کچھ دوسری شرائط بھی شامل ہیں۔ مثلا کوئی عیسائی مسلمانوں کے علاقوں میں صلیب نہیں لہرائے گا۔ اپنی عبادت اور مذہبی رسومات کے لیےلاؤڈ اسپیکر استعمال نہیں کریں گے۔ چرچ سے باہر عبادت نہیں کریں گے۔ لباس اور روز مرہ کے حوالے سے "داعش" جو ضابطہ اخلاق مقرر کے گی عیسائی بھی اس کی پابندی کریں گے۔ خنزیر کے گوشت، شراب اور اسلحہ کی خرید و فروخت نہیں کرسکیں گے اور نہ ہی انہیں اسلحہ رکھنے کی اجازت ہو گی۔