.

شام : محمد صبرا کے بھائی محمود کی رہائی کا مطالبہ

محمود صبرا کو دمشق کی بدنام زمانہ جیل میں رکھا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے کارکنوں نے جنیواٹو میں اپوزیشن کی نمائندگی کرنے والے رہنما محمد صبرا کے بھائی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ شامی سکیورٹی فورسز نے مذاکراتی ٹیم کے رکن محمد صبرا کے بھائی محمود صبرا کو دمشق کے مضافات سے گرفتار کیا گیا تھا۔

شامی امریکی کونسل کے سینئیر پولیٹیکل ایڈوائزر محمد غنیم کے مطابق محمد صبرا کا بھائی محمود اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا جب سکیورٹی فورسز نے اسے گلی میں سے اٹھا لیا۔

اس کے اٹھائے جانے کے بعد عینی شاہدین نے شامی سکیورٹی فورسز کی اس کارروائی کی ان کے گھر اطلاع کی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ محمد صبرا کے زیر حراست لیے گئے بھائی کو دمشق کی بدنام زمانہ جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ واضح محمد صبرا آج کل ترکی میں مقیم ہیں۔

سینئیر پولیٹیکل ایڈوائزر محمد غنیم کا کہنا ہے کہ ''جب کوئی اس قید خانے میں پہنچ گئے تو بد ترین تشدد کے نتیجے میں اس قیدی کی حالت یہ کر دی جاتی ہے کہ وہ اپنے اوپر بیتنے والی بیان بھی نہیں کرسکتا۔''

جنیواٹو کے سلسلے میں مذاکرات کے دوران کی گئی اس گرفتاری کی امریکا نے بھی مذمت کی ہے اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مذاکرات کو خراب کرنے کی کوشش تھی۔

محمد غنیم کا کہنا ہے کہ '' جو لوگ بھی جنیوا گئے ہیں انہیں دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے، یہ درحقیقت جنیوا ٹو میں اپوزیشن کی نمائندگی کرنے کی سزا ہے۔'' ان کے بقول'' ایسے لوگوں کے منقولہ اورغیر منقولہ تمام اثاثہ قبضے میں لے لیے گئے ہیں، یہ سزا ہے جو شامی رجیم انہیں دے رہی ہے۔''

واضح رہے جنیوا ٹو کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات دو دور ہونے کے بعد تعطل کو شکار ہو چکے ہیں اور نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔ شامی رجیم کو مذاکرات میں دلچپی نہیں ہے کہ وہ خود کو بالادست سمجھحتی ہے۔