.

تین عرب فلمیں اس سال کے آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد

اسرائیلی فوج کے مظالم پرمبنی فلم ''عمر'' ہالی وڈ میں 2 مارچ کو دکھائی جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چھیاسویں آسکر ایوارڈز (اکیڈیمی ایوارڈز) کے لیے عرب دنیا سے تین فلمیں مقابلے میں پیش کی جارہی ہیں۔آسکر ایوارڈز کی رنگا رنگ تقریب کا آغاز آیندہ اتوار کو لاس اینجلس میں ہورہا ہے۔

ہالی وڈ میں غیرملکی زبانوں میں فلموں کے مقابلے میں فلسطینی ہدایت کار ہانی ابواسعد کی فلم ''عمر'' 2 مارچ کو دکھائی جائے گی۔اس فلم کا ہالی وڈ کی''دی ہنٹ''،اٹلی کی ''دی گریٹ بیوٹی''،بیلجیئم کی ''دی بروکن سرکل بریک ڈاؤن'' اور کمبوڈیا کی ''دی مسنگ پکچر'' سے مقابلہ ہے۔

فلم میں عمر نامی ایک فلسطینی کی کہانی بیان کی گئی ہے جس کو ایک اسرائیلی فوجی کے قتل کے بعد گرفتار کر لیا جاتا ہے اور پھر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔عمر کو یہ کہا جاتا ہے کہ اگر وہ اسرائیلی فوجی کے قاتل کو پکڑنے میں مدد دے تو اس صورت میں اس کو رہا کیا جاسکتا ہے۔

یہ فلم اس سے پہلے کینز فلمی میلے اور ٹورنٹو بین الاقوامی فلمی میلے میں بھی دکھائی جاچکی ہے۔اس کو دسمبر میں دبئی میں منعقدہ بین الاقوامی فلمی میلے میں عربی فیچر فلم کی کیٹگری میں بہترین فلم اور بہترین ڈائریکٹر کے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

میدان

دستاویزی فیچر فلم کی کیٹگری کے مقابلے میں پیش کی جانے والی دوسری عرب فلم ''دی اسکوائر'' (میدان) ہے۔مصر میں بنی اس فلم کی ہدایت کارہ جہین نوجیم اور پیش کار کریم عمرو ہیں۔اس فلم میں مصر کے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011ء میں برپاشدہ عوامی انقلاب کے واقعات کو پیش کیا گیا ہے۔

لیکن بہت سے مصریوں نے ابھی تک اس فلم کو نہیں دیکھا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو مصری حکام کی سنسرشپ کی پابندیوں کا سامنا ہے اور اس کو وہاں فلمی میلوں یا تھیٹرز میں نہیں دکھایا جاسکا ہے۔فلم کے پروڈویسر کریم عمرو نے اس کو بیوروکریسی کے پردے میں سیاست قراردیا ہے۔

مصر کی وزارت ثقافت کے انڈرسیکرٹری اور سنسرشپ کے سربراہ احمد عواد کا کہنا ہے کہ ''فلم پر کسی سیاسی جواز کی بنا پر ملک میں پابندی نہیں ہے بلکہ مصری سینما گھروں میں یہ اس وجہ سے نہیں دکھائی جاسکی کہ اس کے پروڈیوسروں نے مناسب پیپر ورک مکمل نہیں کیا تھا''۔انھوں نے فلم ساز کے بیوروکریسی الزامات کو پروپیگنڈا قراردیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کی جاسکے''۔

انھوں نے کہا کہ ''مجھے اس فلم کی آسکرز کے لیے نامزدگی پر خوشی ہے کیونکہ یہ ایک اعلیٰ درجے کا فنی اظہار ہے۔ہم اس فلم کے خلاف نہیں ہیں لیکن اس ضمن میں قانون بھی موجود ہے اور ہم کسی کو استثنیٰ نہیں دے سکتے''۔

دوسری جانب فلم کی ہدایت کارہ نوجیم کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے ستمبر 2013ء میں سنسرشپ حکام کو یہ فلم جائزے کے لیے پیش کی تھی۔ہمیں ایک میلے میں فلم دکھانے کے لیے زبانی اجازت نامہ تو جاری کردیا گیا تھا لیکن اس ضمن میں آج تک سرکاری خط جاری نہیں کیا گیا ہے۔

''کرامہ کی کوئی دیواریں نہیں''

اس سال اکیڈیمی ایوارڈز کے لیے نامزد کی گئی تیسری عرب فلم بھی عرب بہار سے متعلق ہے اور یہ یمن میں برپا ہونے والے انقلاب سے متعلق ہے۔

یمنی نژاد اسکاٹش دستاویزی فلم ساز سارہ اسحاق نے ''کرامہ کی کوئی دیواریں نہیں'' کے نام سے یہ فلم بنائی ہے اور اس کو دستاویزی فلموں کی کیٹگری میں پیش کیا جائے گا۔

اس مختصر فلم میں یمنی دارالحکومت صنعا میں 18 مارچ 2011ء کو احتجاجی مظاہرے کی کہانی بیان کی گئی ہے۔بعد میں اس دن کو ''جمعہ العظمت'' یا ''جمعہ الکرامہ'' کا نام دیا گیا تھا۔یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف پرامن احتجاجی مظاہرے کے شرکاء پر تبدیلی چوک میں حکومت نواز بندوق برداروں نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین ہلاک ہوگئے تھے۔اس فلم کا نام بھی بڑا معنی خیز ہے کہ کرامہ یعنی عظمت کی تو کوئی دیواریں نہیں ہوتی ہیں۔