.

"داعش" کے جنگجوؤں نے حلب میں چور کا ہاتھ کاٹ ڈالا

شام کے گلی محلوں میں عسکریت پسند حکومتیں قائم کرنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری شورش کے دوران اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے والے گروپ گلی محلوں میں اپنی حکومتیں قائم کرتے ہوئے مرضی کے قوانین بھی نافذ کرنے لگے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حلب میں شدت پسند تنظیم" داعش" کے جنگجوؤں نے چوری کے الزام میں ایک شخص کو پکڑ کر اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق جہادی تنظیموں اور سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر جاری ایک تصویر میں داعش کےجنگجوؤں کے ہاں ایک شخص کو پکڑے دکھایا گیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ حلب کے مسکنہ قصبے سے تعلق رکھنے والے اس شخص کو چوری کےالزام میں ہاتھ کاٹنے کی 'شرعی' سزا دی جا رہی ہے۔ چور نے اقبال جرم کرنے کے ساتھ ساتھ خود ہی ہاتھ کٹوانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ چوری کے گناہ کے بار سے نجات حاصل کر سکے۔

غیر جانب دار ذرائع سے اس خبر کے درست یا غلط ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم ایک تصویر جس میں ایک شخص کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی ہے، اس کا ایک ہاتھ ایک میز پر رکھا گیا ہے جسے چند افراد نے تھام رکھا ہے جبکہ ایک شدت پسند ٹوکے سے ہاتھ کاٹنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگلے لمحے چور کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ شام کے محاذ جنگ میں سرگرم شدت پسند تنظیم "داعش" نے الرقہ شہر کے عیسائیوں کے ساتھ ایک معاہدہ بھی کیا جس میں انہیں جزیہ کی ادائیگی کا پابند بنایا گیا ہے۔