.

80،70 انتہا پسند یہودیوں کا مسجد الاقصیٰ پر دھاوا

مسجد میں نماز کے لیے موجود مسلمانوں سے درانداز یہودیوں کی جھڑپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس کی معیت اور تحفظ میں قریباً اسّی انتہا پسند یہودی آبادکاروں نے ایک کٹڑ ربی کی قیادت میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا ہے اور اس کی بے حرمتی کی ہے۔

مسجد اقصیٰ کے ایک محافظ نصر قوس نے ترکی کی اناتولو نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ ''یہودی آبادکار المغربی دروازے سے کمپلیکس میں داخل ہوئے تھے اور پھر انھوں نے قبلی اور مروانی مساجد کا چکر لگایا اور باب الرحمۃ اور باب القطنین سے بھی گزرے ہیں''۔

نصر نے بتایا کہ ربی یہودا گلک نے مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ نعرے بازی کی ہے۔یہ انتہا پسند ربی ٹیمپل ماؤنٹ ہیریٹیج فاؤنڈیشن کا بھی سربراہ ہے۔اس نے اسرائیلی پولیس سے کہا کہ ان بلوائیوں کو دور رکھا جائے اور اس کے بعد یہودی آبادکاروں اور مسجد اقصیٰ کے احاطے میں عبادت کے لیے موجود مسلمانوں کے درمیان تلخ کلامی اور دھینگا مشتی شروع ہوگئی تھی۔

فلسطینی الاقصیٰ فاؤنڈیشن برائے وقف اور ثقافت نے یہودی انتہا پسندوں کی اس دراندازی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی پولیس مسلم طلبہ کے خلاف تو مسجد الاقصیٰ میں داخلے کے حوالے سے سخت اقدامات کررہی ہے لیکن اس نے یہودی آباد کاروں کو مسجد میں داخلے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔

اسرائیلی پولیس نے جمعہ کو مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے آنے والے مسلمانوں کو محدود رسائی دی تھی۔اسرائیلی پولیس نے یہ اقدام الاقصیٰ کمپاؤنڈ میں نماز جمعہ کے لیے آنے والے فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپ کے بعد کیا تھا۔

انتہا پسند یہودیوں نے مسلمانوں کے پہلے قبلہ اول میں ایسے وقت میں دھاوا بولا ہے جب اسرائیلی پارلیمان میں یہودیوں کو الاقصیٰ کے احاطے میں عبادت کی اجازت دینے سے متعلق مجوزہ قانون پر بحث جاری ہے۔واضح رہے کہ اس وقت یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کی اجازت نہیں ہے۔

ستاون مسلم ممالک کی نمائندہ اسلامی کانفرنس تنظیم نے اسرائیلی پارلیمان میں مجوزہ قانون پر بحث کی مذمت کی ہے اور اس کو مسجد الاقصیٰ کو یہودیانے کی پالیسی کا حصہ قراردیا ہے۔