.

بحرین: دھماکے میں تین پولیس اہلکار جاں بحق

زیر حراست نوجوان کی ہلاکت کے خلاف اہل تشیع کے ماتمی جلوس کے نزدیک دھماکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست بحرین کے دارالحکومت منامہ کے نزدیک واقع ایک گاؤں میں دھماکے کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار جاں بحق ہوگِئے ہیں۔

بحرینی وزارت داخلہ نے سوموار کو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ ''گاؤں دیح میں ایک ماتمی جلوس کے بعض شرکاء نے الگ ہوکر سڑکیں بند کرنا شروع کردیں۔پولیس اہلکار ان بلوائیوں کو منتشر کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ اس دوران دھماکا ہو گیا''۔

فوری طور پر دھماکے کی وجہ کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا۔یہ دھماکا ایسے وقت میں ہوا ہے جب سیکڑوں افراد ایک تئیس سالہ شیعہ نوجوان کی گذشتہ ہفتے زیر حراست ہلاکت کے سوگ میں ماتمی جلوس نکال رہے تھے اور آج ان کے سوگ کا آخری دن تھا۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس شخص کو دسمبر میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ دوران حراست بیماری کے سبب جان کی بازی ہار گیا ہے۔

گذشتہ ماہ بھی بحرین میں حکومت مخالف مظاہروں کی تیسری سالگرہ کے موقع پر ایک جلوس میں دھماکا ہوا تھا جس میں ایک پولیس اہلکار مارا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بحرین کی سکیورٹی فورسز نے 31 دسمبر2013ء کو کشتی کے ذریعے دھماکا خیز مواد اور اسلحہ ملک میں اسمگل کرکے لانے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی سازش ناکام بنانے کی اطلاع دی تھی۔

بحرین کے سکیورٹی سربراہ میجر جنرل طارق الحسن نے تب بتایا تھا کہ تحقیقات کی روشنی میں برآمد کیے گئے اسلحہ اور گولہ بارود میں ایرانی ساختہ پچاس دستی بم اور 295 کمرشل ڈیٹونیٹر شامل تھے۔ان پر شام ساختہ تحریر تھا۔

بحرین کے پولیس سربراہ نے بتایا تھا کہ ملک کی جانب آنے والی ایک کشتی کو روکا گیا تھا اور اس سے گولہ بارود کی بھاری مقدار برآمد ہوئی تھی۔اس کے علاوہ بعض ہتھیار ایک گودام سے بھی برآمد ہوئے تھے اور تیرہ مشتبہ افراد کو کشتی کے ذریعے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا تھا۔بحرین میں گذشتہ تین سال میں حزب اختلاف کی حکومت مخالف تحریک کے دوران متعدد مرتبہ گھریلو ساختہ دستی بم پکڑے گئے تھے۔