.

دمشق میں لڑائی،فلسطینی مہاجرین کے لیے امداد معطل

فلسطینی گروپ کا القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ پر یرموک کیمپ پر حملے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے دارالحکومت دمشق کے علاقے یرموک میں متحارب جنگجو دھڑوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں محصور ہزاروں فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کی امداد معطل ہوگئی ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اتوار کو یرموک کیمپ میں ایک مارٹر گولہ لگنے سے ایمبولینس گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا۔اس کیمپ کے مکینوں نے اس واقعہ کے بعد متعدد دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔

شامی صدربشارالاسد کی حامی فلسطینی جماعت پاپولر فرنٹ برائے آزادیِ فلسطین جنرل کمان نے القاعدہ کی شامی شاخ النصرۃ محاذ پر لڑائی شروع کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے تعلق رکھنے والے جنگجو کیمپ میں داخل ہو کر دوسروں پر حملہ آوروں ہورہے ہیں۔

شامی فوج نے گذشتہ کئی ماہ سے یرموک کیمپ کا محاصرہ کررکھا ہے اور وہاں مقیم قریباً بیس ہزار فلسطینی محصور ہو کررہ گئے ہیں اور وہ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔انھیں اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کی امدادی ایجنسی انروا نے حال ہی میں خوراک کے پیکٹ تقسیم کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔

انروا کے ترجمان کرس گینز کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ یرموک میں اتوار کے بعد سے خوراک کے پارسلز تقسیم نہیں کرسکا ہے۔انھوں نے تنازعے کے تمام فریقوں سے فوری طور پر امدادی کارروائیوں شروع کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے گذشتہ کئی ماہ سے یرموک کے علاوہ دمشق کے بعض دوسرے نواحی علاقوں کا محاصرہ کررکھا ہے اور ان علاقوں کے مکینوں تک خوراک سمیت بنیادی اشیاء بھی مہیا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

ان علاقوں کی آبادی کی اکثریت اہل سنت پر مشتمل ہے اور شامی فوج انھیں زبردستی صدر بشارالاسد کا وفادار بنانے کی کوشش کررہی ہے یا اس کی یہ کوشش ہے کہ وہ باغی جنگجوؤں کے خلاف ہوجائیں۔

اقوام متحدہ کی ثالثی کے نتیجے میں شام کے وسطی شہر حمص،یرموک اور دمشق کے دوسرے علاقوں میں گذشتہ ماہ جنگ بندی ہوئی تھی جس کے بعد وہاں پھنسے ہوئے شہریوں کو دوسرے علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے یا انھیں اقوام متحدہ کے تحت خوراک اور دوسری بنیادی اشیاء بھی مہیا کی گئی ہیں۔