سعودی عرب: والد کے بہیمانہ تشدد سے 13 سالہ بیٹی کی موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں جہاں غیر ملکی تارکین وطن کے ہاتھوں اپنے مالکان پر حملوں کی خبریں منظرعام پر آتی رہتی ہیں وہاں ایک سفاک والد نے وحشیانہ تشدد کر کے اپنی ہی بیٹی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ المناک واقعہ جنوبی سعودی عرب میں عسیر کے مقام پر پیش آیا۔ پولیس نے سفاک والد کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق بچی کے قاتل والد نے پولیس کو اپنے ابتدائی بیان میں بتایا تھا کہ بچی کی موت گلے میں جھولے کی رسی اُلجھ جانے سے واقع ہوئی ہے لیکن پولیس کی پوچھ تاچھ کے بعد اس نے اپنی لخت جگر کو خود ہی قتل کرنے کے جرم کا اعتراف کر لیا۔ والد نے بتایا کہ اس نے دو روز قبل بچی کو ایک کمرے میں بند کیا اور اسے زنجیر میں جکڑنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عسیر میں محکمہ مذہبی امور سے ریٹائرڈ سعودی نے پولیس کو بتایا کہ اس نے اپنی تین بیٹیوں کو زنجیروں میں جکڑا۔ دو کو کھڑکیوں کے ساتھ لٹکا دیا اور تیرہ سالہ "ریم" کو دروازے کے ساتھ زنجیر میں جکڑ کر لٹکا دیا تھا۔ وہ اسی حالت میں بچیوں کو چھوڑ کر چلا گیا۔ واپس آیا تو ریم کی روح پرواز کر چکی تھی۔ ملزم نے فوری طور پر وہ زنجیر گھر سے دور کسی جگہ چھپا دی تھی جسے بعد ازاں برآمد کرلیا گیا ہے۔ مقتولہ کی دوسری دونوں بہنوں کو "فیملی پروٹیکشن ہاؤس" منتقل کردیا گیا ہے۔

عسیر کے پولیس ترجمان کیپٹن عبداللہ شعشان نے بتایا کہ انہیں اطلاع دی گئی تھی کہ ایک والد اپنی مردہ بچی کو لے کر اسپتال پہنچا ہے۔ ڈاکٹروں کے معائنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بچی پر تشدد کیا گیا ہے۔ معائنے کے بعد والد میت واپس گھر لے گیا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قاتل والد کو حراست میں لے لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں